CAATSA پابندیاں کیا ہیں اور ان کے خاتمے سے ترکیہ کو کیا فائدہ ہوگا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے انقرہ اور واشنگٹن کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

CAATSA یعنی Countering America’s Adversaries Through Sanctions Act امریکا کا 2017 کا قانون ہے، جس کا مقصد روس، ایران اور شمالی کوریا کے دفاعی، انٹیلی جنس اور حساس شعبوں کے ساتھ بڑے لین دین کو روکنا ہے۔

امریکا نے دسمبر 2020 میں ترکیہ پر یہ پابندیاں اس وقت عائد کی تھیں جب انقرہ نے روس سے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدا۔ امریکا کا مؤقف تھا کہ روسی S-400 نظام، نیٹو کے دفاعی نظام اور امریکی F-35 جنگی طیاروں کے لیے سکیورٹی خطرہ بن سکتا ہے۔

اس کے برعکس ترکیہ ہمیشہ سے کہتا آ رہا ہے کہ S-400 کی خریداری اس کا خودمختار دفاعی فیصلہ تھا اور اس کا مقصد اپنی فضائی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا تھا۔

ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق، یہ پابندیاں ترکیہ کی فوج یا پوری معیشت پر نہیں لگائی گئی تھیں، بلکہ ترکیہ کی دفاعی صنعت کے ادارے ایس ایس بی، یعنی پریزیڈنسی آف ڈیفنس انڈسٹریز، اور اس کے چند سینئر عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ پابندیوں کے تحت ایس ایس بی کے لیے امریکی ایکسپورٹ لائسنز اور منظوری روک دی گئی تھیں۔

امریکی مالیاتی اداروں کو ایس ایس بی کو 12 ماہ کے دوران ایک کروڑ ڈالر سے زائد قرض یا کریڈٹ دینے سے روکا گیا تھا۔ امریکی ایکسپورٹ-امپورٹ بینک کی معاونت بھی ایس ایس بی سے متعلق برآمدات کے لیے بند کر دی گئی تھی۔

امریکی حکام کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں ایس ایس بی کو فائدہ دینے والے قرضوں کی مخالفت کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔ کچھ ترک عہدیداروں پر ویزا پابندیاں اور اثاثے منجمد کرنے جیسے اقدامات بھی شامل تھے۔

ان پابندیوں سے پہلے ترکیہ کو 2019 میں F-35 پروگرام سے بھی نکال دیا گیا تھا، جسے انقرہ نے غیر منصفانہ فیصلہ قرار دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق CAATSA پابندیاں ختم ہونے سے ترکیہ کو دفاعی، معاشی، ٹیکنالوجیکل اور سفارتی سطح پر اہم فوائد مل سکتے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ ترکیہ کے لیے F-35 پروگرام میں دوبارہ شمولیت یا کم از کم اس پر مذاکرات کا راستہ کھل جائے گا۔

ٹی آر ٹی کے مطابق، اگر F-35 معاملہ آگے بڑھتا ہے تو ترکیہ اپنی فضائیہ کو پانچویں نسل کے جدید جنگی طیاروں سے مضبوط کر سکے گا، تاہم اس کے لیے امریکی کانگریس اور متعلقہ قانونی رکاوٹوں کا حل ضروری ہو گا۔ پابندیاں ختم ہونے سے ترکیہ کی دفاعی صنعت کو امر یکی ایکسپورٹ لائسنز، پرزہ جات، ٹیکنالوجی، فنانسنگ اور مشترکہ دفاعی منصوبوں تک بہتر رسائی مل سکتی ہے۔

اس سے ایس ایس بی کے لیے امریکی کمپنیوں اور بین الاقوامی دفاعی اداروں کے ساتھ تعاون میں آسانی پیدا ہوگی۔

دفاعی صنعت کے ماہرین کے مطابق ان پابندیوں نے ترکیہ کو مقامی دفاعی صنعت تیز کرنے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں ڈرونز، میزائل، بحری پلیٹ فارمز اور دیگر شعبوں میں انقرہ نے خود انحصاری بڑھائی۔ تاہم پابندیاں ختم ہونے کے بعد ترکیہ اپنی مقامی دفاعی صنعت کو برقرار رکھتے ہوئے مغربی ٹیکنالوجی اور نیٹو معیار کے نظاموں تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، معاشی لحاظ سے بھی یہ فیصلہ ترکیہ کے لیے مثبت اشارہ ہے، کیونکہ پابندیوں کے خاتمے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے اور دفاعی شعبے میں بین الاقوامی شراکت داری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

سفارتی سطح پر یہ قدم امریکا اور ترکیہ کے تعلقات میں ایک بڑے تنازع کو کم کرے گا، جو کئی برسوں سے دونوں نیٹو اتحادیوں کے درمیان کشیدگی کا باعث تھا۔

نیٹو کے لیے بھی یہ فیصلہ اہم ہے، کیونکہ ترکیہ اتحاد کا ایک اہم رکن ہے اور بحیرہ اسود، مشرقِ وسطیٰ، قفقاز اور مشرقی بحیرہ روم جیسے حساس خطوں میں اس کا کردار نمایاں ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پابندیاں ختم ہونے سے ترکیہ اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس رابطہ کاری، نیٹو منصوبہ بندی اور علاقائی سلامتی کے معاملات میں بہتر ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے۔
تاہم F-35 طیاروں کی فروخت یا ترکیہ کی مکمل بحالی فوری اور آسان عمل نہیں ہو گا، کیونکہ S-400 نظام، امریکی قانون، کانگریس کی منظوری اور علاقائی سکیورٹی خدشات اب بھی اہم عوامل رہیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں