بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی علاقے کاکس بازار میں شدید مون سون بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 8 روہنگیا پناہ گزین ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 5 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 2 بچے زخمی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق اتوار کی رات سے پیر کی صبح تک شدید بارشوں کے بعد پناہ گزین کیمپوں میں کئی پہاڑی ڈھلانیں سرک گئیں، جس سے عارضی پناہ گاہیں مٹی اور ملبے تلے دب گئیں۔
کاکس بازار میں فائر سروس اور سول ڈیفنس کے حکام نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے 7 لاشیں نکالیں، جبکہ ایک لاش پناہ گزینوں نے خود تلاش کی۔ تمام لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل بارش اور پہاڑی پانی کے بہاؤ سے ڈھلانوں کی مٹی نرم ہو گئی، جس کے باعث کمزور پناہ گاہیں گر گئیں۔
بنگلہ دیشی حکام نے خطرناک پہاڑی علاقوں میں رہنے والے پناہ گزینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ تقریباً ایک ہزار افراد کو پہلے ہی منتقل کیا جا چکا ہے۔ ڈھاکا کے محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے کے مطابق 2021 سے 2026 کے دوران بنگلہ دیش کے روہنگیا کیمپوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 36 پناہ گزین ہلاک اور کم از کم 86 زخمی ہو چکے ہیں۔ بنگلہ دیش میں میانمار سے فرار ہونے والے 10 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔
دوسری جانب بھارت میں بھی مون سون بارشوں نے کئی علاقوں کو متاثر کیا ہے۔ مغربی ریاست مہاراشٹر، جہاں ممبئی بھی واقع ہے، میں گزشتہ چند دنوں کے دوران بارش سے متعلق واقعات میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پونے ضلع میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ممبئی-پونے ایکسپریس وے کے کچھ حصے عارضی طور پر بند کرنا پڑے۔ممبئی میں بارش کے باعث سڑکیں زیرِ آب آ گئیں اور اسکول بند کر دیے گئے۔
بھارت کے شمالی ہمالیائی علاقوں، جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں بھی شدید بارشوں کے باعث سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس سے سڑکیں متاثر ہوئیں، ٹرانسپورٹ معطل ہوئی اور کئی دیہات کا رابطہ منقطع ہو گیا۔
بھارتی محکمہ موسمیات نے مہاراشٹر سمیت مختلف علاقوں میں مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے نشیبی علاقوں میں سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں جون سے ستمبر تک جاری رہنے والا مون سون زرعی پیداوار اور پانی کے ذخائر کے لیے اہم ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہر سال یہی بارشیں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور جانی و مالی نقصان کا سبب بھی بنتی ہیں۔