پاکستان اور کرغزستان کا اقتصادی تعاون بڑھانے اور علاقائی رابطہ کاری مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان اور کرغزستان نے اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے، تجارت میں اضافے، توانائی کے شعبے میں تعاون اور علاقائی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

منگل کے روز صدر آصف علی زرداری اور کرغزستان کے صدر صادر جباروف کے درمیان وفود کی سطح کے مذاکرات میں یہ اتفاقِ رائے ہوا۔ صدر آصف علی زرداری کرغزستان کے 4 روزہ سرکاری دورے پر ہیں، جو 21 برس بعد کسی پاکستانی صدر کا کرغزستان کا پہلا دورہ ہے۔

مذاکرات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان برادرانہ تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخی روابط، ثقافتی قربت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو تجارت کے فروغ، براہِ راست پروازوں میں اضافے اور تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش کے ذریعے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔

صدر زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کرغزستان کو مسابقتی قیمتوں پر معیاری مصنوعات فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے صنعت، تحقیق، جدت، جدید ٹیکنالوجی اور نوجوان نسل کی ترقی کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے تاریخی روابط قدیم شاہراہِ ریشم سے جڑے ہوئے ہیں، جنہیں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

اس موقع پر صدر زرداری نے کرغزستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا 2027-2028 کے لیے غیر مستقل رکن منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی عالمی برادری کے اس اعتماد کی عکاس ہے جو کرغزستان کے امن، سلامتی اور کثیرالجہتی تعاون میں مثبت کردار پر کیا گیا ہے۔

اس موقع پر کرغزستان کے صدر صادر جباروف نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے CASA-1000 منصوبے پر عمل درآمد اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدر جباروف نے مزید کہا کہ پاکستان اور کرغزستان زراعت، ٹیکسٹائل، معدنیات، حلال صنعت، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس، تعلیم اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں