کیا بنگلادیش کی نئی قیادت بھارت اور چین کے ساتھ تعلقات میں محتاط توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟

بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے معیشت کو سہارا دینے کے لیے چین سے زیادہ سرمایہ کاری اور شراکت داری کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ دوسری جانب بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھی دوبارہ متوازن کرنے کی کوشش جاری ہے۔

بی بی سی انگلش کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے سرکاری غیر ملکی دورے میں ملائیشیا اور چین کا انتخاب کیا، جسے ڈھاکا کی نئی خارجہ پالیسی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا دورہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ بنگلہ دیش سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، صنعتی ترقی اور تجارتی تعاون کے لیے بیجنگ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ دورے کے دوران وزیراعظم طارق رحمان نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر اتفاق ہوا، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطہ کاری، بندرگاہوں، صنعتی زونز اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق امور شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش نے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ بنگلہ دیشی مصنوعات کی درآمد بڑھا کر تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد دے۔ بنگلہ دیش نے پھل، آبی مصنوعات، چمڑا اور ادویات سمیت مختلف مصنوعات کے لیے چینی مارکیٹ تک زیادہ رسائی کی خواہش ظاہر کی۔

چین نے بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری، صنعتی ڈھانچے کی بہتری، صحت، تعلیم، گرین ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں میں تعاون کی پیشکش کی۔

بنگلہ دیش اور چین کے درمیان تیستا دریا کے انتظام اور بحالی کے منصوبے پر بھی بات چیت ہوئی، جسے بھارت میں حساس معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔ تیستا دریا بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان مشترک ہے، اور اس پر پانی کی تقسیم کا معاہدہ کئی برسوں سے تعطل کا شکار ہے۔

بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی سرحد کے قریب کسی بھی چینی منصوبے کو نئی دہلی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ علاقہ بھارت کے شمال مشرقی خطے کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھارت کو بھی تیستا منصوبے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی، مگر نئی دہلی نے فیصلہ کرنے میں بہت وقت لیا۔ ڈھاکا کے مطابق چین کے پاس ایسے منصوبے کے لیے تکنیکی صلاحیت اور مالی وسائل موجود ہیں۔

چین نے بھارتی خدشات کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور بنگلہ دیش کا تعاون کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے اور اسے بیرونی اثر و رسوخ سے آزاد رہنا چاہیے۔

دوسری جانب بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بھی حالیہ مہینوں میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بس سروس جزوی طور پر بحال ہوئی ہے، بھارت نے بنگلہ دیشیوں کے لیے سیاحتی ویزوں کا اجرا بھی شروع کیا ہے، اور حالیہ مشرقِ وسطیٰ بحران کے دوران بھارت نے بنگلہ دیش کو ایمرجنسی ایندھن بھی فراہم کیا۔

تاہم دونوں ممالک کے تعلقات میں اب بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی بھارت میں موجودگی، سرحدی معاملات، مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی اور بھارت میں بنگلہ دیش سے متعلق سیاسی بیانات ڈھاکا میں ناراضی کا باعث بن رہے ہیں۔

بنگلہ دیشی تجزیہ کاروں کے مطابق عوامی سطح پر بھارت مخالف جذبات بھی تعلقات کی بحالی کے راستے میں ایک اہم عنصر ہیں، خاص طور پر اس تاثر کی وجہ سے کہ بھارت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حمایت کی۔

رپورٹ کے مطابق چین پہلے ہی بنگلہ دیش کا سب سے بڑا دفاعی سپلائر ہے، جبکہ بنگلہ دیش پر چین کے اربوں ڈالر کے قرضے بھی موجود ہیں۔ بیجنگ بنگلہ دیش، میانمار اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کو بھی آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش اس وقت بھارت اور چین کے درمیان محتاط توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف بھارت اس کا اہم پڑوسی، تجارتی شراکت دار اور سکیورٹی کے لحاظ سے اہم ملک ہے، جبکہ دوسری طرف چین سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور انفراسٹرکچر کے لیے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈھاکا کے لیے چین کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں، مگر بھارت کے ساتھ مستحکم تعلقات بھی بنگلہ دیش کی جغرافیائی، معاشی اور سکیورٹی ضرورت ہیں۔ اسی لیے بنگلہ دیش کی نئی حکومت بظاہر ایک ایسی پالیسی پر چل رہی ہے جس میں چین سے معاشی فائدہ حاصل کیا جائے، مگر بھارت کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر خراب ہونے سے بھی بچایا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں