ایران اپنے سپریم لیڈر کو الوداع کہ رہا ہے، ایران کے لیے یہ ایک سوگوار لمحہ ہے۔ شاید ان دو تین دہائیوں کا سوگوار ترین لمحہ۔ پاکستان کے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل، چیئرمین پیپلز پارٹی اور وزیراعلی سندھ سمیت انتہائی اعلی سطحی وفد ایران پہنچا اور ان کے غم میں شریک ہوا لیکن بھارت کے وزیراعظم نے ان آخری رسومات میں شرکت سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود انکار کر دیا کہ ایرانی صدر نے بھارتی وزیراعظم مودی کو باقاعدہ سرکاری دعوت نامہ بھیجا تھا۔ نہ صرف یہ کہ مودی خود نہیں گئے بلکہ تیسری درجے کی قیادت بھیج کر باقاعدہ توہین آمیز رویہ اختیار کیا۔ وزیر خارجہ بھی نہیں بھیجا، وزیر مملکت برائے خارجہ کو بھیج دیا۔ بھارت کا یہ رویہ ساری کہانی سنا رہا ہے جو اسرائیل اور بھارت اس خطے میں کھیل رہے ہیں۔ یہ اب توفیق کی بات ہے کہ کسی کی آنکھیں کھلتی ہیں یا نہیں کھلتیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارت میں شیعہ رہنماؤں میں سے بھی کسی نے ابھی تک مودی کی مذمت نہیں کی، ابھی تک کسی نے مودی کو للکارا نہیں کہ تم اسرائیل نواز ہو اور خبردار اس ذلت اور ذلالت کی حد کو عبور نہ کرو، رک جاؤ، ورنہ ہم تمہاری ایسی تیسی پھیر دیں گے۔ ایک طالب علم کےطور پر میں حیران ہوں کہ ایسی دھمکیاں صرف پاکستان کے حصے میں آتی ہیں اور پاکستان کے غیر معمولی خیر خواہی پر مبنی کردار کے باوجود اس کو للکارا جاتا ہے، طعنے دیے جاتے ہیں، دشنام سے نوازا جاتا ہے کہ خبردار، تم ذلت کی حدوں کو عبور کر چکے ہو، رک جاؤ۔
یہ بالکل ویسا ہی رویہ ہے جیسے ابولکلام آزاد کے بھارت میں دیوبند کا دم یوں گھٹ رہا ہے کہ سیاست ہی چھوڑ دی ہے، قومی زندگی میں مسلمانوں پر مودی نے عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے لیکن دیوبند کی قیادت کی جرات نہیں کہ مودی پر تنقید کر سکے لیکن جناح کے پاکستان میں یہی دیوبند دن میں اٹھارہ بار رجز پڑھتا ہے اور چوبیس بار حکومتوں کو للکارتا ہے۔
اتنا سوال تو بنتا ہے کہ پھر مسلمانوں کو آزادی کس ملک میں نصیب ہوئی؟ بھارت میں؟ جہاں منمنانے کی بھی اجازت نہیں یا پاکستان میں جہاں دھاڑنےا ور للکارنے کی عام آزادی ہے۔
ہمارے ہاں لوگوں نے پاکستان کی بہت نا قدری کی۔ حد ہی کر دی۔ لیکن یہ پاکستان ہی ہوتا ہے جو اپنی بساط اور حیثیت سے بڑھ کر خیر خواہانہ کردار ادا کرتا ہے۔ اس نے امت کے وہ قرض بھی اتارے ہیں جو اس پر واجب بھی نہیں تھے۔ اس کے باوجود شعلہ بیانی کے نشانے پر اسی کو رکھا جاتا ہے۔ اسی کو یہ طعنہ ملتا ہے کہ تمہاری تو خارجہ پالیسی ہی آزاد نہیں۔ کیا یہ ناقدین بھارت کی خارجہ پالیسی کا مطالعہ فرمائیں گے اور بتائیں گے کہ وہ کتنی آزاد ہے؟ اسرائیل کے دباؤ میں بھارت نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کا بھی خیال نہیں رکھا حالانکہ قربتیں تو بہت ہوا کرتی تھیں اور ان کی حدت پاکستان تک بھی پہنچتی تھی۔
کیا یہ ثابت نہیں ہوا کہ مشکل میں پتہ چلتا ہے، اپنا اپنا ہی ہوتا ہے اور پرایا پرایا ہی ہوتا ہے۔ کیا مزید شواہد کی بھی ضرورت ہے؟
بین الاقوامی سیاست میں دوستی کے دعوے کرنا آسان ہے، لیکن اصل امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ بحران جب دستک دیتا ہے تب پتا چلتا ہے کہ کون دوست ہے اور کون موقع پرست۔
برسوں تک بھارت اور ایران کے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کا نام دیا جاتا رہا۔ چاہ بہار بندرگاہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو علاقائی شراکت دار قرار دیا۔ پاکستان میں یہ تاثر بھی مضبوط رہا کہ پاکستان مخالف بھارتی سرگرمیوں کے لیے ایرانی سرزمین استعمال ہوتی رہی۔ کلبھوشن یادیو کا معاملہ بھی اسی تناظر میں زیر بحث آتا رہا۔ ایران نے بھارت کو اقتصادی، سفارتی اور علاقائی سطح پر غیر معمولی اہمیت دی۔ لیکن جب ایران پر مشکل وقت آیا تو بھارت نے ایران کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ مشکل وقت میں یہ پاکستان تھا جو ایران کا دوست، معاون، ہمدرد اور مددگار بن کر سامنے آیا۔
پاکستان پر گرجنے والوں میں سے کوئی تو پوچھے کہ بھارتی وزیراعظم نے آخری رسومات میں شرکت کیوں نہیں کی؟ اگر بھارت واقعی ایک خودمختار عالمی طاقت ہے تو اسے کس کا خوف تھا؟ امریکہ کا؟ اسرائیل کا؟ یا دونوں کا؟ اگر بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں مکمل آزادی کا دعویٰ کرتا ہے تو پھر ایرانی کے سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ یہ سوال ویسے ایران بھی چاہے تو پوچھ سکتا ہے۔ اس کا پوچھنا بھی بنتا ہے۔
صف بندی بہت واضح ہے۔ بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ بھارت جنوبی ایشیا میں اسرائیلائزیشن پر عمل پیرا ہے۔ صہیونیت اور ہندتوا کے اس مشترکہ ایجنڈے کے سامنے پاکستان کھڑا ہے۔