بھارت کے کچھ مندروں میں زندہ ہاتھیوں کے بجائے روبوٹک ہاتھیوں کے استعمال کا تنازع کیا ہے؟

جنوبی بھارت کے بعض ہندو مندروں میں مذہبی رسومات اور تہواروں کے دوران زندہ ہاتھیوں کی جگہ روبوٹک ہاتھی استعمال کیے جا رہے ہیں، جس پر جانوروں کے حقوق کے کارکن خوش ہیں، مگر روایتی حلقوں کی جانب سے اس تبدیلی کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ میں تیار کیے جانے والے یہ روبوٹک ہاتھی دیکھنے میں حقیقی ہاتھیوں جیسے بنائے گئے ہیں۔ ان کے کان ہلتے ہیں، دم حرکت کرتی ہے اور سونڈ سے پانی بھی نکلتا ہے، تاہم فی الحال یہ چل نہیں سکتے۔

ان روبوٹک ہاتھیوں کو فائبر گلاس، آئرن اور ربڑ سے تیار کیا جاتا ہے۔ انہیں بنانے والے مکینیکل انجینئر پرسانتھ پرکاشن کا کہنا ہے کہ حقیقی ہاتھی جیسی مکمل نقل تیار کرنا ممکن نہیں، لیکن کوشش کی جاتی ہے کہ اس جانور کی شان اور انداز کو زیادہ سے زیادہ قریب سے پیش کیا جا سکے۔

جانوروں کے حقوق کی تنظیم پیٹا اور دیگر غیر سرکاری اداروں نے اب تک تقریباً 40 روبوٹک ہاتھی بھارتی مندروں کو عطیہ کیے ہیں۔ ایک روبوٹک ہاتھی کی قیمت تقریباً 6 ہزار ڈالر بتائی گئی ہے۔

اس تبدیلی کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مندروں اور تہواروں میں زندہ ہاتھیوں کو گھنٹوں گرمی، شور، ہجوم، ڈھول اور آتش بازی کے درمیان کھڑا رکھا جاتا ہے، جس سے وہ دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کیرالہ میں 2024 کے دوران مندروں کے تہواروں میں ہاتھیوں کے بپھرنے کے واقعات میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حامیوں کا کہنا ہے کہ روبوٹک ہاتھیوں کے استعمال سے جانوروں پر ظلم کم ہو گا اور انسانی جانوں کو بھی خطرہ نہیں رہے گا۔

کیرالہ کے ایک مندر کے پجاری راجکمار نمبوتھری کا کہنا ہے کہ مذہبی رسومات کے لیے زندہ ہاتھی لازمی نہیں۔ ان کے مطابق پرانے وقتوں میں ہاتھی بادشاہوں کے لشکروں اور محلوں کا حصہ ہوتے تھے، اسی وجہ سے وہ بعد میں مذہبی جلوسوں میں شامل ہونے لگے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کے ماحول میں کنکریٹ کے شہر، گرمی اور شور ہاتھیوں کے لیے مناسب نہیں ہے، اس لیے روبوٹک ہاتھی ایک بہتر متبادل ہو سکتے ہیں۔

تاہم کئی روایتی حلقے اس تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ہاتھی ہندو مذہبی روایت میں مقدس سمجھے جاتے ہیں، اس لیے روبوٹک ہاتھی زندہ ہاتھی کی جگہ نہیں لے سکتے۔

کچھ ہاتھی مالکان اور مندر منتظمین کا کہنا ہے کہ زندہ ہاتھی صدیوں پرانی مذہبی اور ثقافتی روایت کا حصہ ہیں، اس لیے انہیں مصنوعی ہاتھیوں سے بدلنا درست نہیں۔

کیرالہ میں اب بھی تقریباً 400 ہاتھی قید میں موجود ہیں، جبکہ پورے بھارت میں یہ تعداد تقریباً 2500 ہے۔ اگرچہ گزشتہ برسوں میں قید ہاتھیوں کی تعداد کم ہوئی ہے، لیکن مندروں اور تہواروں میں ان کے استعمال پر بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔

وائلڈ لائف ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف مذہب یا روایت تک محدود نہیں بلکہ اس میں مذہبی سیاحت اور معاشی مفادات بھی شامل ہیں۔

روبوٹک ہاتھی بنانے والے فنکاروں کا کہنا ہے کہ وہ کسی کی روایت ختم نہیں کرنا چاہتے، بلکہ جانوروں کے ساتھ بہتر سلوک کے لیے ایک متبادل راستہ پیش کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں