‘ڈی ڈی ایل جے کی موسیقی بنانے کے بعد آپ کے پاس اپنا جیٹ اور جزیرہ ہونے چاہیے تھے’

گلوکار شان نے انکشاف کیا ہے کہ معروف موسیقار بدو ایک بار یہ جان کر حیران رہ گئے تھے کہ “دل والے دلہنیا لے جائیں گے” اور “کچھ کچھ ہوتا ہے” جیسی سپر ہٹ فلموں کی موسیقی دینے کے باوجود جتن- للت نے بڑا پیسہ نہیں کمایا۔

جتن–للت ایک بھارتی موسیقی کار جوڑی ہے، جس میں دو بھائی جتن پنڈت اور للت پنڈت شامل ہیں۔ وہ 1990 کی دہائی اور 2000 کی ابتدائی دہائی میں ہندی سنیما کے لیے اپنی خدمات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانے جاتے ہیں۔
یہ جوڑی اپنی سریلی دھنوں کے لیے مشہور ہے اور کئی کامیاب فلموں سے وابستہ رہی ہے۔ ان کے مشہور ترین کاموں میں “دل والے دلہنیا لے جائیں گے”، “کچھ کچھ ہوتا ہے”، “محبتیں”، “کبھی خوشی کبھی غم” اور “پیار تو ہونا ہی تھا” شامل ہیں۔

شان نے ایک یوٹیوب شو میں بتایا کہ 10 سے 15 سال پہلے بدو ممبئی میں ان کے اسٹوڈیو آئے، جہاں جتن- للت ایک گانے کی ریکارڈنگ کر رہے تھے۔

شان کے مطابق، بدو نے جتن- للت سے ملاقات کے دوران کہا کہ اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو بہت افسردہ ہوتا، کیونکہ اگر میں نے صرف “دل والے دلہنیا لے جائیں گے” اور “کچھ کچھ ہوتا ہے” جیسی دو فلموں کی موسیقی دی ہوتی تو آج میرے پاس اپنا جیٹ اور اپنا جزیرہ ہوتا۔

شان نے بتایا کہ بدو کا مطلب یہ تھا کہ اتنی بڑی کامیابی کے باوجود بھارتی فلم میوزک انڈسٹری میں موسیقاروں کو وہ مالی فائدہ نہیں ملتا جو مغرب میں رائلٹی کے نظام کے تحت ملتا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت میں کئی دہائیوں تک موسیقاروں اور گلوکاروں کو عموماً ایک بار معاوضہ دیا جاتا رہا، جبکہ موسیقی کے حقوق اور رائلٹی سے زیادہ فائدہ پروڈیوسرز یا میوزک کمپنیوں کو حاصل ہوتا رہا۔
شان نے کہا کہ مغربی ممالک میں ایک بڑا ہٹ گانا بھی فنکار کو زندگی بھر رائلٹی کما کر دے سکتا ہے، جبکہ بھارت میں کئی بڑے ہٹ گانوں کے باوجود فنکار مالی طور پر اتنا فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

بدو بھارت میں “میڈ اِن انڈیا” جیسے مشہور گانوں کے لیے جانے جاتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر انہوں نے “کنگ فو فائٹنگ” اور پاکستانی پاپ البم “ڈسکو دیوانے” جیسی مشہور موسیقی بھی ترتیب دی۔

رپورٹ کے مطابق بدو آج بھی اپنے چند عالمی ہٹ گانوں سے ماہانہ بھاری رائلٹی حاصل کرتے ہیں، جبکہ بھارتی موسیقی کے کئی بڑے نام اپنی تخلیقات کے مستقل مالی حقوق سے محروم رہے۔

شان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ جتن- للت جیسے موسیقاروں کی کامیابی کے باوجود بدو کو حیرت ہوئی کہ وہ اب بھی اسٹوڈیو میں اسی طرح کام کر رہے تھے، جبکہ ان کے گانے بھارتی سنیما کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں