سائنس دانوں نے انٹارکٹیکا میں تقریباً 40 سال قبل ملنے والی ایک ہڈی کی شناخت ایک نایاب ڈائنوسار کے فوسل کے طور پر کی ہے۔
یہ ہڈی ایک لمبی گردن اور لمبی دُم والے سبزی خور ڈائنوسار، ٹائٹینوسار، کی دُم کا حصہ ہے۔ تاہم محققین ابھی تک اس کی درست نسل کا تعین نہیں کر سکے۔
یہ فوسل 1985 میں انٹارکٹیکا کے جیمز راس جزیرے پر ایک تحقیقی مہم کے دوران ماہرِ ارضیات مائیک تھامسن کو ملا تھا۔ اس وقت وہ برٹش انٹارکٹک سروے کے ساتھ علاقے کی چٹانوں کا مطالعہ کر رہے تھے۔ انہوں نے اس ہڈی کو ایک بڑے رینگنے والے جانور کی باقیات سمجھ کر محفوظ کر لیا تھا۔
کئی دہائیوں بعد ماہرِ آثارِ قدیمہ مارک ایونز نے برٹش انٹارکٹک سروے کے ذخیرے میں موجود اس ہڈی کو دوبارہ دیکھا اور شبہ ظاہر کیا کہ یہ کسی ڈائنوسار کی ہو سکتی ہے۔ بعد ازاں محققین نے اس کا تفصیلی جائزہ لیا اور دیگر ڈائنوسارز کے فوسلز سے موازنہ کرنے کے بعد تصدیق کی کہ یہ واقعی ایک ٹائٹینوسار کی ہڈی ہے۔
انٹارکٹیکا میں ڈائنوسار کے فوسلز بہت کم ملتے ہیں، کیونکہ آج یہ خطہ برف کی موٹی تہوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ تاہم کروڑوں سال پہلے یہاں گھنے جنگلات تھے اور یہ علاقہ موجودہ دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ معتدل اور زندگی کے لیے موزوں تھا۔
محققین کا اندازہ ہے کہ یہ ڈائنوسار تقریباً سات میٹر (23 فٹ) لمبا تھا، جو اپنے گروہ کے لحاظ سے نسبتاً چھوٹا تھا، اور ممکن ہے کہ اس کی عمر بھی کم ہو۔
تحقیق میں شامل سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اب قدیم فوسلز کا پہلے سے کہیں زیادہ تفصیلی تجزیہ ممکن ہو گیا ہے، جس سے ایسے راز سامنے آ رہے ہیں جو ماضی میں معلوم نہیں ہو سکتے تھے۔
مائیک تھامسن 2020 میں انتقال کر گئے تھے اور وہ یہ جاننے سے پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے کہ ان کی دریافت دراصل ایک ڈائنوسار کی ہڈی تھی۔