فِش آئل سپلیمنٹس، جنہیں عام طور پر اومیگا تھری سپلیمنٹس بھی کہا جاتا ہے، دل کی صحت اور ٹرائی گلیسرائیڈز کم کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں، مگر ماہرین کے مطابق بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے ان کا اثر واضح یا مضبوط نہیں ہے۔
تحقیق کے مطابق، اومیگا تھری سپلیمنٹس عموماً بلڈ شوگر کے لیے “نیوٹرل” سمجھے جاتے ہیں، یعنی زیادہ تر افراد میں یہ نہ تو شوگر کو نمایاں طور پر کم کرتے ہیں اور نہ ہی اسے واضح طور پر بڑھاتے ہیں۔
کچھ اسٹڈیز میں فاسٹنگ بلڈ گلوکوز میں معمولی کمی دیکھی گئی، جبکہ دیگر تحقیقات میں ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر کنٹرول، ایچ بی اے ون سی یا فاسٹنگ گلوکوز پر کوئی خاص فرق نہیں ملا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اومیگا تھری سپلیمنٹس کو بلڈ شوگر کم کرنے کے لیے بنیادی علاج یا حل نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ سپلیمنٹس بعض افراد میں دل کی صحت یا ٹرائی گلیسرائیڈز کم کرنے کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں، لیکن شوگر کنٹرول کے لیے انہیں خاص طور پر تجویز نہیں کیا جاتا۔
ذیابیطس کے مریضوں میں دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے، اس لیے اومیگا تھری سے بھرپور غذا، جیسے چکنائی والی مچھلی، کچھ افراد کے لیے مجموعی صحت کے لحاظ سے مفید ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اومیگا تھری حاصل کرنے کے لیے سپلیمنٹس کے بجائے غذا کو ترجیح دینا بہتر ہے۔ مچھلی، السی کے بیج، چیا سیڈز، اخروٹ اور بھنگ کے بیج اومیگا تھری کے اچھے ذرائع سمجھے جاتے ہیں۔
اگر کوئی شخص فِش آئل سپلیمنٹ لینا چاہتا ہے تو اسے پہلے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ کرنا چاہیے، خاص طور پر اگر وہ خون پتلا کرنے والی دوا لیتا ہو، دل کی بے ترتیب دھڑکن کا مسئلہ ہو، مچھلی یا شیل فش سے الرجی ہو، حاملہ ہو یا جگر کی بیماری میں مبتلا ہو۔
ماہرین کے مطابق بلڈ شوگر کنٹرول کے لیے کسی ایک سپلیمنٹ کے بجائے متوازن غذا، فائبر سے بھرپور خوراک، مناسب پروٹین، صحت مند چکنائیاں، کھانے کے بعد چہل قدمی، ورزش، نیند اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہیں۔