اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ عوام کے حق خودارادیت کی حمایت میں قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس قرارداد کی سفارش جنرل اسمبلی کی سماجی، انسانی اور ثقافتی امور کی کمیٹی نے گزشتہ ماہ کی تھی۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے قومی خبر رساں ادارے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد دنیا کو ایک ایسا تصور فراہم کرتی ہے جہاں تمام قومیں، برادریاں اور افراد آزادی، عزت اور اختیار کے ساتھ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں۔
پاکستان 1981 سے اس قرارداد کو پیش کر رہا ہے تاکہ دنیا کی توجہ ان مظلوم قوموں پر مرکوز کی جا سکے، جن میں فلسطینی عوام اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے لوگ شامل ہیں، جو اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔
65 ممالک کے اشتراک سے پیش کی گئی اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیر ملکی فوجی مداخلت، بیرونی قبضے، جبر اور امتیازی سلوک کی کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ قرارداد حق خود ارادیت کی عالمگیر اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور ان تمام لوگوں کی قربانیوں کو تسلیم کرتی ہے جو جبر کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، خصوصاً بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کے لیے یکجہتی اور حمایت کا پیغام دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حق خودارادیت محض ماضی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ مستقبل کی تعمیر و ترقی کا اہم عنصر ہے۔ قرارداد نے ان کارروائیوں کی سخت مخالفت کی ہے جو حق خودارادیت اور انسانی حقوق کو دبانے کا باعث بنتی ہیں۔
جنرل اسمبلی نے ان لاکھوں پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی حالت پر بھی افسوس کا اظہار کیا جو غیر ملکی جارحیت اور قبضے کے نتیجے میں بے گھر ہوئے۔ قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ ان افراد کو عزت اور تحفظ کے ساتھ اپنے گھروں کو واپسی کا حق فراہم کیا جائے۔
مزید برآں، قرارداد میں انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غیر ملکی قبضے اور جبر کے نتیجے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خصوصی توجہ دے۔