وزیراعظم کی جانب سے مجوزہ قانون سازی کا جائزہ لینے کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کے اِن کیمرا اجلاس کے بعد پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل کے تحت حکومت کا نجی جائیداد پر قبضہ کرنے یا مالکان کی اجازت کے بغیر ٹیلی کام ٹاورز نصب کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
وزیرِ قانون کے مطابق کسی بھی نجی جگہ یا عمارت پر مالک کی اجازت کے بغیر ٹیلی کام سے متعلق کوئی سرگرمی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کے اعتراضات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے ذیلی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بل کو متنازع بنانے کی ضرورت نہیں، تاہم نجی ملکیت کے حقوق کے تحفظ اور ڈیجیٹل ترقی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے قانون میں مزید وضاحتیں شامل کی جائیں گی۔
قومی اسمبلی نے یہ بل 11 جون کو منظور کیا تھا، لیکن سینیٹ نے اسے تاحال منظور نہیں کیا۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی نے بل میں ٹیلی کام ٹاورز اور آلات کو شامل کرنے پر اعتراض کیا تھا، کیونکہ بل کا بنیادی مقصد فائبر نیٹ ورک کی توسیع بتایا جا رہا ہے۔
رائٹ آف وے سے متعلق مجوزہ شق 27 بی کے تحت قانونی طور پر دیے گئے راستے میں رکاوٹ یا تاخیر پر 5 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز شامل ہے۔
ڈان اخبار کے مطابق، ٹیلی کام شعبے کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات پاکستان میں بہتر انٹرنیٹ، فائبر نیٹ ورک اور ڈیجیٹل سروسز کے لیے ضروری ہیں۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ نجی مالکان نہیں بلکہ ہاؤسنگ سوسائٹیز، گیٹڈ کمیونٹیز اور مختلف انتظامی اداروں سے اجازت لینے میں تاخیر ہے۔
ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عامر ابراہیم نے کہا کہ پارلیمان کے جائزہ عمل سے قانون کو مزید بہتر بنانے کا موقع ملے گا تاکہ نجی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کا نظام بھی واضح ہو سکے۔
وزارتِ آئی ٹی نے وضاحت کی ہے کہ جائیداد کے مالکان کو اعتراض اٹھانے، شرائط طے کرنے اور مناسب معاوضہ طلب کرنے کا حق حاصل رہے گا۔