خود کو ایک عمارت کی طرح سمجھتا ہوں، جسے بار بار توڑ کر نئے انداز میں تعمیر کیا جا سکتا ہے، اکشے کمار

بالی وڈ اداکار اکشے کمار نے کہا ہے کہ فلم انڈسٹری میں ابتدائی برسوں کے دوران ان کا مقصد صرف پیسہ کمانا تھا، لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ وہ ایکشن ہیرو کے ایک ہی امیج میں محدود ہو گئے ہیں۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کو دیے گئے اایک نٹرویو میں اکشے کمار نے کہا کہ 35 سال کا کیریئر بہت طویل عرصہ ہے اور وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہیں اتنا لمبا سفر کرنے کا موقع ملا۔

اکشے کمار کے مطابق پہلے دس برسوں کے بعد جب انہوں نے اپنی فلمیں دیکھیں تو انہیں محسوس ہوا کہ وہ صرف ایکشن کردار ہی کرتے رہے ہیں، جبکہ لوگ انہیں کسی اور انداز میں دیکھنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

اداکار نے کہا کہ اسی وقت انہوں نے خود کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور مختلف قسم کے کردار کرنے شروع کیے۔ ان کے مطابق، “ہیرا پھیری”، “دھڑکن”، “مجھ سے شادی کروگی”، “ٹوائلٹ: ایک پریم کتھا” اور “پیڈ مین” جیسی فلمیں اسی تبدیلی کا حصہ تھیں۔

اکشے کمار نے کہا کہ وہ خود کو ایک عمارت کی طرح سمجھتے ہیں، جسے بار بار توڑ کر نئے انداز میں تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایک اداکار کے لیے خود کو بدلتے رہنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ ایک سال میں چار فلمیں کیوں کرتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک روز کام کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس سے فلم انڈسٹری میں کام اور کاروبار دونوں بڑھتے ہیں۔

اکشے کمار نے کہا کہ کامیابی اور ناکامی فلم انڈسٹری کا حصہ ہیں، لیکن ان کا کام مسلسل محنت کرنا ہے۔

اکشے کمار جلد فلم “ویلکم ٹو دی جنگل” میں نظر آئیں گے، جس میں ان کے ساتھ روینہ ٹنڈن، سنیل شیٹی، پریش راول، ارشد وارثی، جیکی شروف، راج پال یادو اور دیگر فنکار شامل ہیں۔

اکشے کمار نے اسٹارڈم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے اصل شہرت وہ لمحہ تھا جب ان کے والد فخر سے کہتے تھے کہ “میرا بیٹا اکشے کمار ہے”۔ ان کے مطابق والدین کی آنکھوں میں فخر دیکھنا ہی ان کے لیے سب سے بڑی کامیابی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں