دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز، چین نے امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا

چین نے دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹرز کی عالمی درجہ بندی میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔تازہ TOP500 فہرست کے مطابق، چین کا سپر کمپیوٹر لائن شائن دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر بن گیا ہے۔ یہ نظام چین کے شہر شینژن میں نیشنل سپر کمپیوٹنگ سینٹر میں نصب ہے۔

لائن شائن نے امریکہ کے ایل کیپٹن سپر کمپیوٹر کو پیچھے چھوڑا، جو نومبر 2024 سے اس فہرست میں پہلے نمبر پر تھا۔

رپورٹ کے مطابق لائن شائن نے 2.198 ایکسا فلاپس کی کارکردگی دکھائی، یعنی یہ ایک سیکنڈ میں دو کوئنٹلین سے زیادہ حسابی عمل انجام دے سکتا ہے۔ یہ کارکردگی ایل کیپٹن کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہے۔

یہ 2017 کے بعد پہلا موقع ہے جب کسی چینی سپر کمپیوٹر نے TOP500 فہرست میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس سے قبل چین کا سن وے تائی ہو لائٹ سپر کمپیوٹر دنیا میں پہلے نمبر پر رہا تھا۔

لائن شائن کی خاص بات یہ ہے کہ یہ گرافکس پروسیسنگ یونٹس، یعنی GPUs، کے بجائے مکمل طور پر عام سینٹرل پروسیسنگ یونٹس، یعنی CPUs، پر چلتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پہلا CPU-only نظام ہے جس نے 2 ایکسا فلاپس سے زیادہ کارکردگی دکھائی۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت چین کی مقامی ٹیکنالوجی اور چِپ خود انحصاری کے لیے انتہائی اہم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ نے چین کو جدید چِپس کی برآمد پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

امریکی سپر کمپیوٹر ایل کیپٹن اب دوسرے نمبر پر آ گیا ہے، جبکہ اوک رج نیشنل لیبارٹری کا فرنٹیئر تیسرے، ارگون نیشنل لیبارٹری کا اورورا چوتھے اور جرمنی کا جوپیٹر پانچویں نمبر پر ہے۔

الجزیرہ کے مطابق اگرچہ TOP500 فہرست سائنسی کمپیوٹنگ کی صلاحیت کو جانچتی ہے، مگر یہ AI میں مکمل برتری کا واحد پیمانہ نہیں۔ کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے AI سپر کمپیوٹرز کو اس فہرست میں شامل نہیں کرتیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں