ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان آج پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے اہم مذاکرات کے ایک دن بعد ہو رہا ہے، جن میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
الجزیرہ کے مطابق یہ ڈاکٹر پزشکیان کا فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ اس لیے اس دورے کو صرف معمول کی سفارتی ملاقات نہیں، بلکہ شکریے اور آئندہ سفارتی حکمتِ عملی کا اہم پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
ایرانی صدر اس دورے کے دوران وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی ان سے ملاقات کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر کے پاکستان آنے کی ایک بڑی وجہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے بعد پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنا ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم ثالثی کردار ادا کیا۔
سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور ایران نے 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ اعلیٰ سطح سیاسی کمیٹی، جوہری معاملات اور معاشی پابندیوں پر ورکنگ گروپس، آبنائے ہرمز کے لیے رابطہ لائن اور لبنان میں کشیدگی روکنے کے لیے ڈی کنفلکشن مکینزم پر بھی پیش رفت ہوئی۔
الجزیرہ کے مطابق، برگن اسٹاک میں تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے، مگر اسلام آباد اس عمل میں سیاسی اعتماد سازی کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔ پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان ایسا پلیٹ فارم بن رہا ہے جہاں سیاسی سطح پر اعتماد کو مضبوط کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کے لیے یہ دورہ اندرونی سیاست کے لحاظ سے بھی اہم ہے۔ ڈاکٹر پزشکیان اپنے ملک میں یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سفارت کاری کمزوری نہیں، بلکہ ایران اپنی خودمختاری کے ساتھ علاقائی شراکت داروں کے ذریعے عالمی سطح پر بات چیت کر رہا ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ دورہ سفارتی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے اسلام آباد کو فوری دورے کے لیے منتخب کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان اب ایک اہم علاقائی ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، سرحدی سکیورٹی اور علاقائی رابطہ کاری بھی بات چیت کا حصہ ہوں گے۔ گزشتہ سال ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان میں دونوں ممالک نے سالانہ تجارت کو تقریباً 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا تھا۔
پاکستان، ایران تعلقات ماضی میں کشیدگی کا شکار بھی رہے ہیں۔ جنوری 2024 میں ایران کے پاکستان کے اندر حملوں اور پاکستان کے جوابی حملوں کے بعد حالات خراب ہوئے تھے، تاہم بعد میں دونوں ممالک نے سفارتی رابطے بحال کر لیے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک عالمی بحران کے بعد تعلقات کو ایک نئی سمت دینا چاہتے ہیں۔