سمرقند کی تاریخ کا ذکر ہو اور مسجد بی بی خانم کا نام نہ آئے، ایسا ممکن نہیں۔ یہ عظیم الشان مسجد نہ صرف ازبکستان بلکہ پوری اسلامی دنیا کے اہم ترین تاریخی اور ثقافتی ورثوں میں شمار ہوتی ہے۔ سمرقند کے قدیم حصے میں واقع یہ مسجد آج بھی اپنی شاندار تعمیر، بلند گنبدوں اور نیلگوں ٹائلوں کے باعث دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔
مسجد بی بی خانم کی تعمیر کا حکم امیر تیمور نے 1399ء میں ہندوستان کی مہم سے واپسی کے بعد دیا تھا۔ اس زمانے میں تیمور ایک ایسی مسجد تعمیر کرنا چاہتے تھے جو ان کی سلطنت کی طاقت، دولت اور عظمت کی علامت بن سکے۔ تعمیر کا کام تقریباً پانچ برس تک جاری رہا اور 1404ء میں یہ مسجد مکمل ہوئی۔ مؤرخین کے مطابق اس منصوبے پر اس دور کے بہترین معماروں، خطاطوں اور کاریگروں نے کام کیا جنہیں مختلف علاقوں سے سمرقند لایا گیا تھا۔
مسجد کا نام امیر تیمور کی اہلیہ سرائے ملک خانم، جنہیں بی بی خانم کے نام سے جانا جاتا ہے، سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے مختلف تاریخی آراء موجود ہیں، لیکن عوامی روایات میں یہ مسجد بی بی خانم کے نام سے ہی مشہور ہو گئی اور آج بھی اسی نام سے پہچانی جاتی ہے۔

مسجد کی تعمیر میں پکی اینٹوں، سنگِ مرمر، موزائیک، فیروزی اور نیلگوں رنگ کی ٹائلوں اور نفیس خطاطی کا استعمال کیا گیا۔ مسجد کے داخلی دروازے، بلند گنبد اور وسیع صحن تیموری فنِ تعمیر کے اعلیٰ نمونے سمجھے جاتے ہیں۔ صحن کے وسط میں سنگِ مرمر سے تیار کردہ ایک بڑا قرآن اسٹینڈ موجود ہے جو سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔
اپنے زمانے میں مسجد بی بی خانم دنیا کی سب سے بڑی اور شاندار مساجد میں شمار ہوتی تھی۔ اس کا مرکزی دروازہ، بلند مینار اور وسیع و عریض صحن اس دور کی انجینئرنگ اور فنِ تعمیر کی غیر معمولی مثال تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ہزاروں نمازی ایک وقت میں یہاں عبادت کر سکتے تھے۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زلزلوں اور موسمی اثرات نے اس عظیم عمارت کو نقصان پہنچایا۔ خصوصاً انیسویں صدی کے آخر میں آنے والے شدید زلزلے نے مسجد کے کئی حصوں کو متاثر کیا۔ بعد ازاں سوویت دور اور پھر آزاد ازبکستان کی حکومت نے اس تاریخی ورثے کی بحالی اور مرمت پر خصوصی توجہ دی۔ کئی دہائیوں پر محیط بحالی کے کام کے بعد مسجد کو بڑی حد تک اس کی اصل شان و شوکت کے مطابق بحال کر دیا گیا۔

مسجد بی بی خانم کے ساتھ ایک دلچسپ لوک داستان بھی منسلک ہے۔ روایت کے مطابق جب امیر تیمور کسی مہم پر تھے تو ان کی اہلیہ نے ان کی واپسی پر تحفے کے طور پر ایک عظیم مسجد تعمیر کروانے کا فیصلہ کیا۔ اس تعمیر کے دوران پیش آنے والے بعض واقعات عوامی کہانیوں کا حصہ بن گئے، اگرچہ مؤرخین انہیں مستند تاریخی حقائق کے بجائے عوامی روایات قرار دیتے ہیں۔
آج مسجد بی بی خانم سمرقند کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں سیاح، محققین اور تاریخ کے شائقین اس عظیم مسجد کو دیکھنے آتے ہیں۔ سیاب بازار، حضرت خضر مسجد اور دیگر تاریخی مقامات کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ سمرقند کے ثقافتی اور تاریخی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

مسجد بی بی خانم صرف اینٹوں، پتھروں اور گنبدوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ تیموری عہد کی سیاسی طاقت، ثقافتی عظمت اور فنِ تعمیر کی بلند ترین روایات کی زندہ علامت ہے۔ سات صدیوں کے بعد بھی یہ مسجد سمرقند کے افق پر اسی وقار کے ساتھ کھڑی ہے اور آنے والوں کو اس دور کی عظمت کا احساس دلاتی ہے جب سمرقند دنیا کے عظیم ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا۔
