ذرا سوچئے
دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں علم، مہارت اور ٹیکنالوجی کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، آٹومیشن، روبوٹکس، بگ ڈیٹا، ڈیجیٹل معیشت اور چوتھے صنعتی انقلاب نے نہ صرف روزگار کی شکل بدل دی ہے بلکہ تعلیم کے روایتی تصورات کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ آج کی دنیا میں کامیابی صرف ڈگری کے حصول سے ممکن نہیں بلکہ ایسی مہارتوں سے وابستہ ہے جو بدلتی ہوئی معیشت کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتیں اپنے تعلیمی نظاموں کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہیں تاکہ تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلیج کو کم کیا جا سکے۔
حال ہی میں چین نے اپنے اعلیٰ تعلیمی نظام میں ایک غیر معمولی اور جرات مندانہ قدم اٹھایا۔ چینی حکومت نے بارہ ہزار سے زائد انڈرگریجویٹ پروگرام ختم یا محدود کر دیے جبکہ دس ہزار سے زیادہ نئے پروگرام متعارف کرائے۔ یہ اقدام محض نصاب میں تبدیلی نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت کے تقاضوں کے مطابق پورے تعلیمی ڈھانچے کی تشکیل نو ہے۔ چین نے یہ پیغام دیا ہے کہ یونیورسٹیوں کا مقصد صرف ڈگریاں تقسیم کرنا نہیں بلکہ ایسی افرادی قوت تیار کرنا ہے جو قومی ترقی، صنعتی جدت اور عالمی مسابقت میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
چین کے اس فیصلے کے پس منظر میں دو بنیادی عوامل کارفرما تھے۔ پہلا، تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، اور دوسرا، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی تیز رفتار پیش رفت۔ چینی پالیسی سازوں نے محسوس کیا کہ لاکھوں نوجوان ایسی ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں جن کی مارکیٹ میں طلب محدود ہے، جبکہ صنعتوں کو مطلوب مہارتوں کے حامل افراد دستیاب نہیں۔ اس عدم توازن نے نہ صرف نوجوانوں کی مایوسی میں اضافہ کیا بلکہ اقتصادی ترقی کی رفتار کو بھی متاثر کیا۔ چنانچہ چین نے روایتی اور کم طلب شعبوں کے بجائے مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، جدید مینوفیکچرنگ، گرین انرجی اور ڈیجیٹل معیشت سے متعلق پروگراموں کو ترجیح دی۔
پاکستان اگرچہ چین سے معاشی اور تعلیمی اعتبار سے مختلف ہے، لیکن ہمارے مسائل کی نوعیت بڑی حد تک ایک جیسی ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، مگر ان میں سے ایک بڑی تعداد موزوں روزگار حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ ملک میں بے شمار ایسے شعبے ہیں جہاں ڈگری ہولڈرز کی تعداد ضرورت سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ دوسری طرف صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، فنی تعلیم اور جدید تکنیکی شعبوں میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ نتیجتاً ایک طرف نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں اور دوسری طرف معیشت مطلوبہ انسانی وسائل سے محروم ہے۔
اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام اب بھی بڑی حد تک ماضی کی ضروریات کے مطابق چل رہا ہے۔ متعدد جامعات ایسے پروگرام پیش کر رہی ہیں جن کے نصاب کو برسوں سے جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔ طلبہ نظریاتی علم تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن عملی مہارتوں، تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے محروم رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈگری کے باوجود بہت سے نوجوان ملازمت کے لیے درکار قابلیت ثابت نہیں کر پاتے۔
پاکستان میں تعلیمی نظام کی جامع اصلاحات اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکی ہیں۔ سب سے پہلے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وزارتِ تعلیم کو ملک بھر میں جاری تمام ڈگری پروگراموں کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے۔ ہر پروگرام کے فارغ التحصیل طلبہ کی روزگار کی شرح، صنعتی طلب اور معاشی افادیت کو جانچنے کے بعد فیصلہ کیا جائے کہ کون سے شعبے برقرار رہیں، کن میں اصلاحات کی جائیں اور کن شعبوں کو محدود کیا جائے۔ ایسے پروگرام جو مسلسل بے روزگاری پیدا کر رہے ہیں، ان کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔
دوسری اہم اصلاح جامعات اور صنعتوں کے درمیان مضبوط روابط کا قیام ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیاں صنعتوں کے ساتھ مل کر نصاب تیار کرتی ہیں، تحقیقاتی منصوبے چلاتی ہیں اور طلبہ کو عملی تربیت فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان میں بدقسمتی سے تعلیمی ادارے اور صنعتی شعبہ اکثر الگ الگ دنیا میں کام کرتے ہیں۔ نتیجتاً طلبہ عملی ماحول سے ناواقف رہتے ہیں۔ اگر ہر ڈگری پروگرام میں لازمی انٹرن شپ، اپرنٹس شپ، صنعتی تربیت اور عملی منصوبوں کو شامل کیا جائے تو فارغ التحصیل نوجوان زیادہ قابلِ روزگار بن سکتے ہیں۔
تیسری اور شاید سب سے اہم ضرورت مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مہارتوں کو تمام شعبوں میں شامل کرنے کی ہے۔ یہ تصور اب پرانا ہو چکا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی صرف کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کے لیے ضروری ہے۔ آنے والے برسوں میں ڈاکٹر تشخیص کے لیے اے آئی استعمال کریں گے، وکلا قانونی تحقیق میں مصنوعی ذہانت سے مدد لیں گے، صحافی ڈیٹا جرنلزم کو اپنائیں گے، اساتذہ سمارٹ لرننگ ٹولز استعمال کریں گے اور کاروباری افراد ڈیجیٹل اینالیٹکس کے ذریعے فیصلے کریں گے۔ اس لیے ہر طالب علم کے لیے بنیادی ڈیجیٹل خواندگی اور مصنوعی ذہانت کی سمجھ ناگزیر ہو چکی ہے۔
چوتھی اصلاح فنی اور تکنیکی تعلیم کے فروغ سے متعلق ہے۔ ہمارے معاشرے میں اب بھی ڈگری کو ہنر پر فوقیت دی جاتی ہے، حالانکہ عالمی معیشت میں مہارت کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جرمنی، جنوبی کوریا، سنگاپور اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے اپنی اقتصادی ترقی میں ووکیشنل اور ٹیکنیکل تعلیم کو مرکزی حیثیت دی۔ پاکستان کو بھی ٹیکنیکل اور ووکیشنل اداروں کے معیار اور تعداد میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ نوجوان عملی مہارتوں کے ذریعے ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں روزگار حاصل کر سکیں۔ خاص طور پر الیکٹریکل، مکینیکل، آٹومیشن، سولر انرجی، ای کامرس اور جدید زرعی ٹیکنالوجی جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے وسیع مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
پانچویں اہم تجویز یہ ہے کہ جامعات کی کارکردگی کو صرف داخلوں، عمارتوں یا تحقیقی مقالات کی تعداد سے نہیں بلکہ فارغ التحصیل طلبہ کے روزگار اور معاشی کامیابی کی بنیاد پر بھی جانچا جائے۔ اگر کسی ادارے کے فارغ التحصیل نوجوان مسلسل بے روزگار رہتے ہیں تو اس کے نصاب، تدریسی طریقوں اور انتظامی پالیسیوں پر نظرثانی ہونی چاہیے۔ تعلیم کا اصل مقصد صرف سند فراہم کرنا نہیں بلکہ افراد کو بااختیار، خودمختار اور معاشی طور پر مستحکم بنانا ہے۔
پاکستان کی معیشت میں بے شمار امکانات موجود ہیں۔ زراعت، ٹیکسٹائل، آئی ٹی، فری لانسنگ، معدنیات، قابلِ تجدید توانائی، لاجسٹکس، ای کامرس اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار ایسے شعبے ہیں جو لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی ادارے انہی شعبوں کی ضروریات کے مطابق انسانی وسائل تیار کریں۔ جب تعلیم اور معیشت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی تو نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ قومی پیداوار، برآمدات اور اقتصادی استحکام میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
چین کا حالیہ تعلیمی انقلاب دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ اکیسویں صدی میں وہی قومیں ترقی کرپائیں گی جو اپنے تعلیمی نظام کو بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی اب وقت آ چکا ہے کہ وہ روایتی سوچ اور فرسودہ تعلیمی ڈھانچوں سے آگے بڑھے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہماری جامعات محض ڈگریوں کی فیکٹریاں بن کر رہ جائیں گی یا وہ مستقبل کے معمار تیار کریں گی جو علم، مہارت اور جدت کے ذریعے ملک کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کر سکیں۔
اگر ہم نے بروقت اور دانشمندانہ اصلاحات نافذ کر دیں تو آج کے نوجوان پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کو نظر انداز کیا تو ڈگریوں کی تعداد بڑھتی رہے گی اور مواقع کم ہوتے جائیں گے۔ مستقبل ان قوموں کا ہے جو تعلیم کو روزگار، تحقیق، ٹیکنالوجی اور قومی ترقی سے جوڑنے میں کامیاب ہوں۔ پاکستان کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ اس سمت میں فیصلہ کن قدم اٹھائے اور اپنی نوجوان نسل کو بوجھ نہیں بلکہ قومی سرمایہ بنائے۔