فٹبال کے عالمی کپ 2026 میں کھیل کو زیادہ منصفانہ، تیز رفتار اور شائقین کے لیے مزید دلچسپ بنانے کے لیے کئی نئے قوانین نافذ کیے جائیں گے۔ انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ نے ان تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے اور ورلڈ کپ 2026 ان قوانین کو اپنانے والا پہلا بڑا ٹورنامنٹ ہوگا۔
نئے قوانین کے تحت اگر کوئی کھلاڑی جھگڑے یا تنازع کے دوران اپنا منہ ہاتھ، بازو یا شرٹ سے ڈھانپ کر بات کرے گا تو اسے براہِ راست سرخ کارڈ دکھایا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام مبینہ نسل پرستانہ ریمارکس کے ایک متنازع واقعے کے بعد متعارف کرایا گیا ہے۔
ریفری کے فیصلوں کے خلاف احتجاجاً میدان چھوڑنے والے کھلاڑی کو بھی سرخ کارڈ دیا جا سکے گا، جبکہ اگر کسی ٹیم کے رویے کے باعث میچ مکمل نہ ہو سکا تو اسے شکست خوردہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
وقت ضائع کرنے کی روک تھام کے لیے ریفری تھرو اِن اور گول کِک کے دوران پانچ سیکنڈ کی گنتی کریں گے۔ مقررہ وقت میں تھرو اِن نہ لینے پر گیند مخالف ٹیم کو دے دی جائے گی، جبکہ گول کِک میں تاخیر کی صورت میں مخالف ٹیم کو کارنر کِک ملے گی۔
کھلاڑیوں کی تبدیلی کے قانون میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ تبدیلی کا بورڈ دکھائے جانے کے بعد میدان چھوڑنے والے کھلاڑی کو دس سیکنڈ کے اندر قریب ترین لائن سے باہر جانا ہوگا، بصورت دیگر متبادل کھلاڑی کو فوری طور پر میدان میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
طبی امداد سے متعلق نئے قانون کے مطابق اگر کسی فیلڈ کھلاڑی کے علاج کے لیے میڈیکل عملہ میدان میں آتا ہے تو اسے کھیل دوبارہ شروع ہونے کے بعد ایک منٹ تک میدان سے باہر رہنا ہوگا۔ تاہم گول کیپر، شدید یا سر کی چوٹ اور پنالٹی لینے والے کھلاڑی اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
گرمی اور سخت موسمی حالات کے پیشِ نظر ہر ہاف میں تقریباً 22ویں منٹ کے قریب تین منٹ کا واٹر یا ہائیڈریشن بریک بھی دیا جائے گا، جبکہ گول کیپر کے علاج کے دوران کھلاڑیوں کو کوچز سے اضافی ہدایات لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
فٹبال حکام کے مطابق ان تمام تبدیلیوں کا مقصد وقت ضائع کرنے کی حوصلہ شکنی، غیر ضروری تنازعات کی روک تھام اور کھیل کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔