مصنوعی ذہانت کے لیے چِپس تیار کرنے والی امریکی کمپنی انویڈیا نے پہلی سہ ماہی کے مالی نتائج میں ایک بار پھر وال اسٹریٹ کی توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت سے متعلق جدید چِپس کی غیر معمولی طلب قرار دی جا رہی ہے۔
کمپنی نے بدھ کو جاری بیان میں بتایا کہ فروری سے اپریل تک کے عرصے میں اس کی آمدنی 58 ارب 32 کروڑ ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 18 ارب 78 کروڑ ڈالر تھی۔ فی حصص آمدنی 2 اعشاریہ 39 ڈالر رہی، جبکہ ایک سال قبل یہ 76 سینٹ تھی۔
غیر معمولی اخراجات کو نکال کر دیکھا جائے تو کمپنی کی فی حصص آمدنی 1 اعشاریہ 76 ڈالر رہی، جو تجزیہ کاروں کی پیش گوئی سے زیادہ ہے۔
کمپنی کی مجموعی آمدنی میں بھی 85 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 81 ارب 62 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سال یہی آمدنی 44 ارب ایک کروڑ ڈالر تھی۔
مالیاتی تجزیاتی ادارے فیکٹ سیٹ کے مطابق ماہرین اوسطاً فی حصص 1 اعشاریہ 75 ڈالر آمدنی اور تقریباً 78 ارب 91 کروڑ ڈالر ریونیو کی توقع کر رہے تھے، تاہم کمپنی نے ان اندازوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جنسن ہوانگ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مصنوعی ذہانت کے مراکز اور انفراسٹرکچر کی تعمیر انسانی تاریخ میں سب سے بڑی توسیع کی شکل اختیار کر چکی ہے اور یہ عمل غیر معمولی رفتار سے جاری ہے۔
تاہم منافع اور آمدنی میں اضافے کے ساتھ کمپنی کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ آپریٹنگ اخراجات 49 فیصد بڑھ کر 7 ارب 75 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔
کمپنی نے موجودہ سہ ماہی کے لیے تقریباً 91 ارب ڈالر آمدنی کی پیش گوئی بھی کی ہے، جبکہ تجزیہ کار تقریباً 87 ارب 29 کروڑ ڈالر کی توقع کر رہے تھے۔
اگرچہ نتائج مضبوط رہے، اس کے باوجود کچھ سرمایہ کار مصنوعی ذہانت کے شعبے میں گزشتہ تین برس کے غیر معمولی اضافے کے بعد ممکنہ سست روی کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 2022 کے آخر میں تقریباً 400 ارب ڈالر تھی، جو اب بڑھ کر 5 کھرب 40 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
نتائج جاری ہونے کے بعد کمپنی کے حصص کی قیمت میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ باقاعدہ کاروباری سیشن کے اختتام پر حصص 223 اعشاریہ 47 ڈالر پر بند ہوئے جبکہ بعد از اوقات تجارت میں یہ معمولی کمی کے بعد 222 اعشاریہ 12 ڈالر تک آ گئے۔
کمپنی نے اپنے شیئر ہولڈرز کو فائدہ پہنچانے کے لیے 80 ارب ڈالر مالیت کے حصص واپس خریدنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے، جبکہ سہ ماہی نقد منافع ایک سینٹ سے بڑھا کر 25 سینٹ فی حصص کر دیا گیا ہے۔