فیلڈ مارشل عاصم منیر کا متوقع دورہ ایران جنگ دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کی شاید آخری بڑی کوشش ہے، الجزیرہ کا تجزیہ

الجزیرہ کے مطابق، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا متوقع دورۂ تہران ایک انتہائی اہم سفارتی پیش رفت ہے، کیونکہ ایسا دورہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوتا جب تک پسِ پردہ اہم پیغامات اور حساس مذاکرات زیر غور نہ ہوں۔

رپورٹ کے مطابق، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں یہ دورہ جنگ کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کی شاید آخری بڑی کوشش ہے، تاہم فریقین کے درمیان اب بھی کئی اختلافات موجود ہیں۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اسے اس بات کی ٹھوس ضمانت دی جائے کہ مستقبل میں اس کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں ہوگی۔ تاہم امریکہ اس بات کی ضمانت دینے کی پوزیشن میں نہیں کہ اسرائیل ایران کے اندر مزید اعلیٰ سطح کی ٹارگٹ کارروائیاں یا شخصیات کے قتل کی کارروائیاں نہیں کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی دیگر اہم شرائط میں آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو تسلیم کرانا، بیرون ملک منجمد اثاثوں کی واپسی، اور افزودہ یورینیم کی ایک مخصوص مقدار کو ملک کے اندر برقرار رکھنے کی اجازت شامل ہے۔

دوسری جانب امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنی تمام جوہری تنصیبات بند کرے، جبکہ صرف تہران میں موجود ایک مرکز کو محدود نوعیت کی سرگرمیوں کے لیے فعال رہنے دیا جا سکتا ہے، لیکن وہاں یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے نفاذ کے طریقہ کار پر بھی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ تمام شرائط اور اقدامات ایک ہی مرحلے میں نافذ کیے جائیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اگر ابتدائی 30 دنوں میں جنگ کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے تو بعد کے مراحل بتدریج آگے بڑھائے جا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں