پاک چین دوستی کے 75 سال، یہ رشتہ غیر معمولی شراکت داری میں کیسے تبدیل ہوا؟

پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کو 75 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کا یہ طویل رشتہ کس طرح وقت کے ساتھ سیاسی، عسکری اور معاشی سطح پر ایک غیر معمولی شراکت داری میں تبدیل ہوا؟

پاکستان اور چین کے درمیان اس مضبوط تعلق کی ابتدائی جھلک 1963 میں نظر آتی ہے جب پاکستان نے چین کے ساتھ ایک اہم سرحدی معاہدے کے تحت قراقرم کے علاقے میں واقع شکسگام وادی کا کنٹرول بیجنگ کے حوالے کیا۔ الجزیرہ کے مطابق، یہ علاقہ اگرچہ متنازع سمجھا جاتا ہے اور بھارت اسے کشمیر کا حصہ قرار دیتا ہے، تاہم اُس وقت کی صورتحال میں پاکستان نے چین کے ساتھ تعلقات کو خطے کے طاقت کے توازن کے لیے زیادہ اہم سمجھا۔ یہ فیصلہ اس پس منظر میں بھی کیا گیا کہ چین نے 1962 میں بھارت کے ساتھ جنگ میں کامیابی حاصل کی تھی۔

اس سے قبل پاکستان نے 1950 میں چین کے عوامی جمہوریہ کو تسلیم کرتے ہوئے ان اولین مسلم اکثریتی ممالک میں جگہ بنائی جنہوں نے بیجنگ سے باضابطہ تعلقات قائم کیے۔ اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھارت کے ساتھ کشیدگی اور خطے میں سلامتی کے خدشات بنیادی محرک تھے، جس کے باعث چین کو ایک اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر دیکھا گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی دہائیوں میں پاکستان نے مغربی دفاعی اتحادوں میں شمولیت اختیار کی، تاہم ساتھ ہی چین کے ساتھ تعلقات کو بھی خاموشی سے فروغ دیتا رہا۔ ماہرین کے مطابق اس تعلق کی بنیاد ایک مشترکہ جغرافیائی اور سیاسی حقیقت پر تھی، جس میں بھارت دونوں ممالک کے لیے اہم اسٹریٹجک چیلنج کے طور پر موجود تھا۔

1970 کی دہائی میں یہ تعلق ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا جب پاکستان نے چین اور امریکہ کے درمیان خفیہ سفارتی رابطے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس خفیہ راستے کے ذریعے دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات بحال ہوئے، جسے عالمی سیاست کی ایک اہم پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس عمل میں پاکستان کو براہ راست کوئی بڑا سیاسی فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔

اسی دور میں جوہری تعاون کے معاملات بھی سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق 1976 میں دونوں ممالک کے درمیان جوہری شعبے میں تعاون کا باضابطہ فہم پیدا ہوا، جس کے بعد آنے والے برسوں میں چین نے پاکستان کے جوہری پروگرام میں مختلف سطحوں پر تکنیکی مدد فراہم کی۔ اگرچہ دونوں حکومتیں اس تعاون کی تفصیلات کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتیں، لیکن متعدد بین الاقوامی تجزیوں میں اس کا ذکر موجود ہے۔

1998میں پاکستان نے بھارت کے جوہری تجربات کے جواب میں اپنے جوہری تجربات کیے، جس کے بعد چین نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف سخت ردعمل کی مخالفت کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان سیاسی ہم آہنگی مزید واضح ہوئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2015 کے بعد چین نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبے شروع کیے جنہیں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان میں توانائی کی قلت کو کم کرنا، سڑکوں اور بندرگاہوں کا نظام بہتر بنانا اور چین کو بحیرہ عرب تک رسائی فراہم کرنا تھا۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس منصوبے کے نتیجے میں پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بھی بڑھا اور کچھ شعبوں میں مالی مشکلات مزید گہری ہوئیں۔

توانائی کے شعبے میں اگرچہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا، لیکن گردشی قرضے اور انتظامی مسائل مکمل طور پر حل نہ ہو سکے۔ اسی طرح گوادر جیسے منصوبوں میں مقامی آبادی کی شمولیت اور معاشی فوائد کی تقسیم پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

دفاعی شعبے میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ پاکستان اپنے دفاعی سازوسامان کا بڑا حصہ چین سے حاصل کرتا ہے، اور دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں اور فضائی دفاعی نظام کی تیاری میں بھی تعاون بڑھایا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کی دفاعی ہم آہنگی عملی میدان میں بھی دیکھی گئی ہے۔

تاہم الجزیرہ کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چین سے تعلقات کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ پاکستان میں چینی شہریوں پر حملے، سیکیورٹی خدشات اور معاشی عدم توازن نے اس شراکت داری کو متاثر کیا ہے۔ اس کے باوجود چین پاکستان کا سب سے بڑا قرض دہندہ اور اہم تجارتی شراکت دار ہے۔

تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق چین کی برآمدات پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں، جس کے باعث تجارتی خسارہ بھی بڑھ رہا ہے۔ پاکستان بار بار قرضوں کی ادائیگی کے لیے چین سے مالی مدد اور قرضوں کی مدت میں توسیع حاصل کرتا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب یہ تعلق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جس میں معاشی فوائد کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اور اسٹریٹجک مفادات زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق چین پاکستان کو خطے میں بھارت کے مقابل ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے اور اسی وجہ سے اس تعلق کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین اور پاکستان کے تعلقات ایک طویل تاریخی عمل کا نتیجہ ہیں جن میں تعاون، مفادات، چیلنجز اور بدلتی عالمی سیاست سب شامل ہیں۔ یہ تعلق آج بھی قائم ہے، تاہم اب یہ ایک زیادہ حقیقت پسندانہ اور عملی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں دونوں ممالک اپنے اپنے قومی مفادات کے تحت فیصلے کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں