فٹبال ورلڈکپ میں صرف چند ہفتے باقی لیکن دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ملک بھارت میں اب تک نشریاتی حقوق کیوں فروخت نہ ہوسکے؟

فٹبال ورلڈکپ 2026 کے آغاز میں اب صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں، لیکن بھارت میں کروڑوں فٹبال شائقین اب تک یہ نہیں جانتے کہ وہ یہ میگا ایونٹ ٹی وی یا موبائل پر دیکھ بھی سکیں گے یا نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عالمی فٹبال تنظیم فیفا ابھی تک بھارت میں عالمی کپ کے نشریاتی حقوق فروخت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

یہ صورتحال اس لیے بھی حیران کن سمجھی جا رہی ہے کیونکہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے اور وہاں فٹبال دیکھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ 2022 کے قطر ورلڈ کپ کے دوران بھارت میں فٹبال کا زبردست جنون دیکھنے میں آیا تھا، خاص طور پر ارجنٹینا اور لیونل میسی کی کامیابی کے بعد مختلف شہروں میں شائقین نے سڑکوں پر جشن منایا تھا۔

عالمی فٹبال تنظیم فیفا کے اعداد و شمار کے مطابق قطر ورلڈ کپ کے دوران بھارت میں تقریباً 74 کروڑ 50 لاکھ افراد نے مختلف ذرائع سے ٹورنامنٹ کو دیکھا۔ ٹی وی ناظرین کی تعداد تقریباً 8 کروڑ 40 لاکھ رہی، جبکہ انٹرنیٹ پر بھی غیر معمولی دلچسپی دیکھی گئی۔ ورلڈ کپ کے فائنل کے دوران صرف ایک آن لائن پلیٹ فارم پر تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ افراد نے میچ دیکھا تھا۔

اسی لیے عالمی فٹبال تنظیم فیفا کو امید تھی کہ 2026 کے ورلڈ کپ اور 2027 کے خواتین ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق آسانی سے فروخت ہو جائیں گے۔ الجزیرہ کے مطابق بھارتی مارکیٹ کے لیے تقریباً 10 کروڑ ڈالر کی قیمت مقرر کی گئی تھی، مگر اب تک کوئی بڑا خریدار سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ میچوں کے اوقات ہیں۔ چونکہ ٹورنامنٹ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا جا رہا ہے، اس لیے زیادہ تر میچ بھارتی وقت کے مطابق رات گئے یا صبح کے اوقات میں ہوں گے۔ 104 میچوں میں سے صرف 14 میچ ایسے ہیں جو بھارت میں آدھی رات سے پہلے شروع ہوں گے۔

فائنل میچ نیو جرسی میں کھیلا جائے گا، جو بھارتی وقت کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے شروع ہوگا۔ اس کے برعکس 2018 اور 2022 کے عالمی کپ کے بیشتر میچ بھارتی ناظرین کے لیے نسبتاً آسان اوقات میں نشر ہوئے تھے۔

کھیلوں کی معیشت پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی مارکیٹ میں اصل دلچسپی کرکٹ کو حاصل ہے۔ خاص طور پر انڈین پریمیئر لیگ کے دوران اشتہارات اور اسپانسرشپ پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ چونکہ فٹ بال ورلڈ کپ کا آغاز انڈین پریمیئر لیگ کے فائنل کے صرف چند دن بعد ہو رہا ہے، اس لیے اشتہاری کمپنیاں اور نشریاتی ادارے اضافی سرمایہ لگانے سے ہچکچا رہے ہیں۔

ایک اور اہم وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ بھارت میں یورپی فٹبال مقابلوں کی نشریاتی قیمتیں حالیہ برسوں میں کم ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر انگلش پریمیئر لیگ کے حقوق پہلے کے مقابلے میں بہت کم قیمت پر فروخت ہوئے، جبکہ ہسپانوی لیگ کے میچوں میں بھی دلچسپی محدود رہی۔

دوسری جانب اس معاملے نے قانونی رخ بھی اختیار کر لیا ہے۔ نئی دہلی ہائی کورٹ میں ایک فٹبال شائق اور وکیل نے درخواست دائر کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر بھارتی عوام ورلڈ کپ نہیں دیکھ پاتے تو یہ ان کے معلومات تک رسائی اور آزادیِ اظہار کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوگی۔ عدالت نے بھارتی وزارتِ اطلاعات اور سرکاری ٹی وی سے جواب طلب کر لیا ہے۔

چین نے اگرچہ آخری وقت میں عالمی فٹبال تنظیم فیفا کے ساتھ نشریاتی معاہدہ کر لیا ہے، اس لیے بھارتی شائقین کو بھی اب تک امید ہے کہ کوئی نہ کوئی نشریاتی ادارہ سامنے آ جائے گا۔ تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو بہت سے شائقین غیر قانونی آن لائن نشریات کا رخ کر سکتے ہیں۔

کولکتہ سے تعلق رکھنے والے ایک فٹبال مداح نے الجزیرہ کو بتایا کہ اگر باضابطہ نشریات نہ بھی ملیں تب بھی لوگ کسی نہ کسی طریقے سے میچ ضرور دیکھیں گے، کیونکہ بھارت میں فٹبال کا جنون مسلسل بڑھ رہا ہے اور خاص طور پر لیونل میسی کے ممکنہ آخری ورلڈ کپ کو کوئی بھی شائق چھوڑنا نہیں چاہتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں