نثار محمد یوسف زئی: صوابی کا وہ نوجوان جس نے سوویت دور میں تاجکستان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا

تاجکستان نے تقریباً ایک صدی بعد اپنے ایک اہم قومی رہنما، افغان نژاد پشتون شخصیت نثار محمد خان کی باقیات ماسکو سے دوشنبے منتقل کر دی ہیں۔ اس اقدام کو تاجک حکومت نے قومی یادداشت کے تحفظ کا سلسلہ قرار دیا ہے۔

افغان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 18 مئی 2026 کو ماسکو کے دونسکوئی قبرستان میں دفن نثار محمد خان اور تاجکستان کے دو دیگر رہنماؤں کی راکھ اور باقیات خصوصی سرکاری مراسم کے تحت دوشنبے کے لُچوب قبرستان منتقل کی گئیں۔

ان تقریبات میں تاجکستان کے وزیر خارجہ اور روس کے نائب وزیر خارجہ سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ روسی عہدیدار میخائل گالوزین اور میخائل شویڈکوئے نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان شخصیات نے سوویت یونین کے دور میں تاجکستانی ریاست کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

نثار محمد خان کون تھے؟

نثار محمد یوسف زئی بیسویں صدی کی اُن پیچیدہ تاریخی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی زندگی استعمار مخالف جدوجہد، سیاسی انقلابات اور وسطی ایشیا میں نئے تعلیمی نظام کی تشکیل سے جڑی رہی۔

وہ مختلف تاریخی حوالوں میں افغان، پشتون، سوویت سیاست دان اور تاجکستان کے تعلیمی نظام کے بانی کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔

نثار محمد 1897 میں برطانوی ہند کے علاقے صوابی( موجودہ خیبر پختونخوا) میں یوسف زئی پشتون خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام اول خان جبکہ دادا کا نام محمد علی تھا۔

وہ ایسے ماحول میں پروان چڑھے جہاں برطانوی استعمار کے خلاف سیاسی مزاحمت زور پکڑ رہی تھی، اور یہی فضا بعد میں ان کی سیاسی سوچ اور عملی جدوجہد کی بنیاد بنی۔

1919 میں جب امان اللہ خان کی قیادت میں تیسری اینگلو افغان جنگ شروع ہوئی تو نثار محمد افغان فوج میں شامل ہو گئے۔ جنگ میں بہادری دکھانے پر انہیں افغانستان کا نشانِ شجاعت بھی دیا گیا۔

جنگ کے بعد برطانوی حکومت نے اُن قبائل اور جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں جنہوں نے افغانستان کا ساتھ دیا تھا۔ نثار محمد کے خلاف بھی سزائے موت کا حکم جاری ہوا، جس کے بعد وہ پہلے کابل اور پھر امان اللہ خان کی حوصلہ افزائی پر تاشقند چلے گئے۔

اس وقت تاشقند میں روسی انقلاب کے بعد ایک نیا سوویت سیاسی نظام تشکیل پا رہا تھا، جبکہ وسطی ایشیا میں زبان، قومیت اور تعلیمی شناخت کے نئے تصورات پر بحث جاری تھی۔

نثار محمد رفتہ رفتہ اُن شخصیات میں شامل ہو گئے جو تاجک قومی شناخت اور تعلیمی اداروں کے قیام کے حامی تھے۔

تاجکستان کے تعلیمی نظام کی تشکیل میں کردار

بعد ازاں نثار محمد سوویت کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوئے اور تاجکستان کے تعلیمی اور انتظامی ڈھانچے کی تعمیر میں سرگرم کردار ادا کرنے لگے۔

وہ دوشنبے کے ایک فوجی ادارے میں استاد بھی رہے جبکہ 1920 میں بخارا پر بالشویک قبضے کے بعد ایران گئے، جہاں انہوں نے میرزا کوچک خان جنگلی کی تحریک سے رابطے استوار کرنے کی کوشش کی۔

تاجک سوویت ریپبلک کے قیام کے بعد تعلیم کو ریاستی ترجیحات میں شامل کیا گیا، اور نثار محمد اُن نمایاں افراد میں شامل تھے جنہوں نے نئے اسکولوں، تعلیمی اداروں اور نصاب کی تیاری میں عملی کردار ادا کیا۔

1926 میں انہیں تاجکستان کا پہلا کمشنر برائے تعلیم مقرر کیا گیا۔ اس دور میں انہوں نے اسکولوں کے جال کو وسعت دینے، اساتذہ کی تربیت اور نصاب کی تنظیم پر کام کیا۔

وہ صرف منتظم ہی نہیں بلکہ ادیب، ماہرِ لسانیات اور معلم بھی تھے۔ انہوں نے ماسکو یونیورسٹی میں پشتو اور اردو زبان پڑھائی، جبکہ فارسی، روسی اور ازبک زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے۔

افغان انٹرنیشنل کے مطابق نثار محمد تاجک زبان روانی سے بولتے تھے اور تاجک ثقافت سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ انہوں نے تاجک لوک ادب پر بھی کام کیا اور “شغنان کے تاجکوں کی رباعیات اور داستانیں” کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی، جو 1923 میں شائع ہوئی۔

ان کی کوششوں سے ابتدائی تاجک طلبہ کو ماسکو اور لینن گراڈ کی جامعات میں بھیجا گیا، جسے وسطی ایشیا میں جدید تعلیمی قیادت کی تیاری کا اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔

1937 میں سٹالن کے دور میں ہونے والی ‘دی گریٹ پرج’ کے دوران نثار محمد کو سوویت خفیہ ادارے نے گرفتار کر لیا۔انہیں تاجک رہنما سورن شادونتس کے ساتھ ‘مشکوک عناصر’ قرار دے کر ماسکو منتقل کیا گیا۔یہ جوزف اسٹالین کے دورِ حکومت میں ہونے والی سیاسی جبر و تشدد کی وہ مہم تھی، جس کا مقصد کمیونسٹ پارٹی اور فوج میں اپنے مخالفین کو ختم کر کے مطلق اقتدار حاصل کرنا تھا۔

رپورٹ کے مطابق دورانِ تفتیش ایک موقع پر نثار محمد اور ایک تفتیش کار کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے بعد سکیورٹی اہلکار کمرے میں داخل ہوئے اور انہیں گولی مار دی گئی۔بعد ازاں ان کی لاش جلا دی گئی اور راکھ ماسکو کے قبرستان میں دفن کر دی گئی۔ نثار محمد کے ساتھ تاجکستان کے دو اور اہم رہنما، نصر اللہ مخسوم اور شیرین شاہ شاتیمور بھی مارے گئے تھے۔

تقریباً نو دہائیوں بعد اب ان تینوں شخصیات کی باقیات تاجکستان منتقل کر دی گئی ہیں، جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ دوبارہ سپرد خاک کیا گیا۔

بھلا دیا گیا نام، جو دوبارہ زندہ ہوا

گزشتہ برسوں میں نثار محمد پر تحقیق اور دستاویزی کام دوبارہ شروع ہوا۔ 2021 میں ان کی زندگی پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی گئی، جس نے تاجکستان میں ان کے کردار کو نئی نسل کے سامنے دوبارہ متعارف کرایا۔

فلم کے ہدایت کار سفر بیک سولیہوف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انٹرنیٹ پر نثار محمد کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں اور دوشنبے میں صرف ایک سڑک ان کے نام سے منسوب تھی۔

انہوں نے کہا کہ بیسویں صدی میں تاجکستان کے ثقافتی اور تعلیمی شعبوں میں جو بھی اہم پیش رفت ہوئی، اس میں نثار محمد کا کردار نمایاں تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں