ہر 43 سیکنڈ بعد ایک شخص خودکشی کر لیتا ہے، ذہنی صحت کے بڑھتے مسائل پر عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں کیا بتایا گیا؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دنیا بھر میں ذہنی صحت کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اس وقت تقریباً ہر 8 میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی بیماری یا نفسیاتی مسئلے کا شکار ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ ایک ارب سے زیادہ افراد ذہنی صحت کے مسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ اوسطاً ہر 43 سیکنڈ بعد دنیا میں ایک شخص خودکشی کر لیتا ہے۔

ذہنی صحت سے متعلق یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنیوا میں عالمی ادارۂ صحت کی سالانہ ورلڈ ہیلتھ اسمبلی جاری ہے، جہاں ذہنی صحت کو اہم عالمی مسئلے کے طور پر زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ذہنی بیماریوں میں ڈپریشن، اینزائٹی یعنی بے چینی، بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا، پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) اور دیگر نفسیاتی مسائل شامل ہیں۔ یہ بیماریاں انسان کے سوچنے، محسوس کرنے اور روزمرہ رویّے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اینزائٹی یا بے چینی دنیا بھر میں سب سے عام ذہنی بیماری ہے۔ اندازاً 35 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ افراد اس کا شکار ہیں۔ خواتین اور نوجوانوں میں اس بیماری کی شرح زیادہ دیکھی گئی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ صرف ہر 4 میں سے ایک مریض کو مناسب علاج مل پاتا ہے۔

اسی طرح تقریباً 33 کروڑ 20 لاکھ افراد ڈپریشن کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈپریشن دنیا میں معذوری اور طویل المدتی ذہنی کمزوری کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ خواتین میں ڈپریشن کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ پائی گئی ہے، خاص طور پر حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذہنی بیماریوں کے باعث دنیا بھر میں خودکشیوں کی شرح بھی تشویشناک حد تک بلند ہے۔ طبی جریدے لینسٹ کے مطابق ہر سال تقریباً 7 لاکھ 40 ہزار افراد خودکشی کرتے ہیں۔ 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں خودکشی موت کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، جبکہ مردوں میں خودکشی کی شرح خواتین کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ دیکھی گئی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پناہ گزینوں، مقامی قبائلی آبادیوں اور سماجی امتیاز کا سامنا کرنے والے افراد میں ذہنی دباؤ اور خودکشی کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذہنی صحت کے شعبے کو دنیا بھر میں بہت کم فنڈز ملتے ہیں۔ عالمی سطح پر حکومتیں اپنے صحت کے بجٹ کا اوسطاً صرف دو فیصد ذہنی صحت پر خرچ کرتی ہیں۔ کم آمدنی والے ممالک میں ذہنی صحت پر خرچ نہایت محدود ہے، جس کے باعث کروڑوں افراد علاج اور سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے بعد ذہنی بیماریوں میں مزید اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر بے چینی اور ڈپریشن کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ ذہنی صحت کو جسمانی صحت جتنی اہمیت دی جائے تاکہ بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں