کیا واقعی پاکستان نے ایرانی جنگی طیاروں کو ” پناہ” دی؟

آصف محمود

کیسا بچگانہ اور احمقانہ الزام ہے کہ ایران نے اپنے جنگی طیارےتباہی سے بچانے کے لیے پاکستان بھیج دیے اور یہ نور خان ایئر بیس پر کھڑے رہے ۔ جنگی جہاز نہ ہوئے ، پرانی دلی کے محلے بلی ماراں کے کبوتر ہو گئے جنہیں شرفا نے جیب میں ڈال کر ادھر سے ادھر کر دیا۔

اس جدید دور میں کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ملک اپنے جنگی جہاز دوسرے ملک میں بھیجےا وریہ آمدو رفت دنیا کی نظروں سے چھپی رہے ، بالخصوص ایسے وقت میں جب امریکہ نے ایران کے چپے چپے پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسا ہوا ہوتا اور امریکہ کو خبر نہ ہوتی۔

یہ بھی بالکل احمقانہ بات ہے کہ ایرانی جہاز نور خان ایئر بیس پر موجود ہیں ۔ یہ کوئی دور دراز کی کوئی پیچیدہ ایئر بیس نہیں ہے ، یہ دارالحکومت سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس میں ممکن ہی نہیں کہ کسی دوسرے ملک کے جہازوں کو پارک کیا جائےا ور یہ بات کسی کو معلوم ہی نہ ہو سکے ۔

سی بی ایس کی ویب سائٹ پر گیا اور متعلقہ خبر کھولی تو معلوم ہوا اس خبر کو تین صحافیوں نے مل کر فائل کیا ہے ، دو امریکی ہیں اور تیسرے صاحب کا تعلق افغانستان سے ہے۔ بات تھوڑی تھوڑی سمجھ آنے لگ گئی۔

یہ بالکل وہی حرکت ہے جو ایک زمانے میں شام کے اخبارات کرتے تھے یا اب سینیئر جونیئر صحافی اور تجزیہ کار کی تقسیم کے بغیر سوشل میڈیا پر بعض خواتین و حضرات سنسنی خیز اور بے ہودہ تھم نیل کی واردات ڈالی جاتی ہے۔ درفنطنی پھیلا دو اور تماشا لگا دو اور اس کے بعد خبر جھوٹی نکلے تو شرمندہ تک ہونے سے انکار کر دو۔

پاکستان نے اگر اس طرح ایرانی طیارے اپنے ہاں رکھے ہوتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ امریکی انتظامیہ کو اس کی خبر نہ ہوئی ہوتی اور امریکی اور افغان صحافی کو یہ خبر ہو گئی ہوتی؟ یعنی حماقت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے کہ صحافیوں نے خبر بریک کر دی اور امریکہ کے صدر کو کچھ علم ہی نہیں اور وہ بے خبری میں پاکستان کی تعریفیں کیے جا رہا ہے۔

شر پسندی اور غیر ذمہ دارانہ صحافت کے ذریعے تماشا لگانے کی بات الگ ہے ورنہ جو حقیقت ہے وہ سب کو معلوم ہے ۔

پہلی بات یہ ہے کہ جنگ بندی سے پہلے ایران کا کوئی طیارہ پاکستان نہیں آیا۔ کچھ جہاز آئےا ور وہ سب کو معلوم ہے کہ آئے۔ یہ اس وقت آئے جب مذاکرات ہونے لگے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مذاکرات کے دورانیے میں صرف ایرانی جہاز نہیں ، امریکی جہاز بھی آئے۔ عملہ بھی آیا ، سیکیورٹی کے لوگ بھی آئے ، ان کے جہاز بھی نور خان ایئر بیس پر کھڑے رہے۔ کچھ بھی خفیہ نہیں تھا ۔ جو تھا دوونوں ممالک کو پتا تھا۔ ہر معاملہ بالکل واضح اور شفاف تھا۔

تیسری بات یہ ہے کہ مذاکرات کے خاتمے کے بعد بھی معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ بات چیت ہوتی رہی، کچھ لوگ بھی یہاں رہے ، اسلام آباد کے راستے بھی بند رہے ، مذاکرات کے دوسرے دور کی توقع تھی ، تو کچھ جہاز بھی یہاں موجود رہے لیکن اس سارے بندوبست کا سب کو پتا تھا۔

چوتھی بات یہ ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے پہلے مذاکرات کے بعد دو دفعہ پاکستان کا دورہ کیا۔ اور پہلے سے موجود سیکیورٹی اور انتظامی میکنزم نے ان دوروں میں لاجسٹک سہولت فراہم کی۔ چیزیں لمحہ لمحہ بدل رہی تھیں ۔ مذاکرات کسی بھی قت شروع ہو سکتے تھے۔ مہمانوں کا آنا جانا جاری تھا۔

پانچویں بات یہ ہے کہ یہ جو جہاز پاکستان میں کھڑے رہے یہ جنگ سے پہلے یا جنگ کے دوران نہیں آئے ، یہ جنگ بندی کے بعد آئے۔ یہ جب پاکستان آئے تو اس وقت مزاکرات کا عمل شروع ہو چکا تھا اور سیز فائر ہو چکا تھا۔ سیز فائر تو اب بھی قائم ہے۔ اس کے بعد امریکہ نے ایران پر کوئی حملہ کیا ہی نہیں ۔ تو جب ایران پر کوئی حملہ ہی نہیں ہو رہا اور سیز فائر ہے تو جہاز پاکستان بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟ یعنی یہ کیا منطق ہے کہ جب جنگ ہوتی رہی تو ایران نے جہاز ایران میں ہی رکھےا ور جب جنگ بند ہو گئی تو اس نے جہاز حفاظت کے لیے پاکستان بھج دیے۔

صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ خبر نہیں ، شرپسندی ہےا ور اس کا مقصد پاکستان کے کردار پر کیچڑ اچھالنا ہے۔ کچھ قوتوں کو پاکستان کا یہ کردار پسند نہیں ہے۔ ان سے برداشت نہیں ہو پا رہا کہ اس خطے میں ایران عرب جنگ کرانے کی جو مذموم سازش صہیونیت نے کی تھی اسے پاکستان نے ناکام بنا دیا ہے۔ چنانچہ اب فرسٹریشن کے عالم میں پاکستان کے خلاف مہم شروع کر دی گئی ہے۔

یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہاکستان کا کردار ثالث کا نہیں بلکہ ایک فریق کا تھا ۔ یہ وہ مذموم پروپیگنڈا ہے جو نہ حقائق پر پورا اترتا ہے نہ ہی کامن سینس پر۔ پاکستان کو کیا پڑی ہے کہ وہ اس جنگ میں کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہو جائے اور امریکہ کی دشمنی مول لے۔ جو پاکستان کی فارن پالیسی کی مبادیات کو سمجھتے ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ ایسا ممکن ہی نہیں ۔

پاکستان کا کردار پہلے دن سے خیر خواہی پر مبنی تھا اور اب بھی خیر خواہی کا ہے۔ پاکستان کسی ایک فریق کے ساتھ نہیں ہے ، پاکستان سب کے لیے خیر خواہی کے جذبات رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں