بھارت اور ویتنام کے درمیان بڑھتے تعلقات چین کے لیے بے چینی کا سبب کیوں بن رہے ہیں؟

دی ڈپلومیٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین حالیہ برسوں میں بھارت اور ویتنام کے بڑھتے ہوئے تعلقات ، بالخصوص دفاع، بحری امور اور اسٹریٹیجک ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہونے والے تعاون، پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ کے مطابق، چین کو فوری طور پر یہ تعلقات اپنی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ محسوس نہیں ہوتے، تاہم بیجنگ کو اس بات پر تشویش ہے کہ انڈیا اور ویتنام کے مفادات جنوبی بحیرۂ چین، بحرِ ہند اور ایشیا کے مستقبل کے سکیورٹی نظام جیسے حساس معاملات میں ایک دوسرے کے قریب آتے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1972 میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات عمومی طور پر دوستانہ اور مستحکم رہے۔ معاشی تعاون محدود تھا جبکہ دفاعی روابط زیادہ تر سفارتی ملاقاتوں، محدود فوجی مشقوں اور سیاسی مکالمے تک محدود رہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون زیادہ عملی اور اسٹریٹیجک نوعیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تعاون میں آبدوزوں کی تربیت، لڑاکا طیاروں کے پائلٹس کی تربیت، دفاعی صنعت میں اشتراک، بحری نگرانی سے متعلق معلومات کا تبادلہ اور دفاعی قرضہ سہولت جیسے معاملات شامل ہیں۔

رپورٹ میں خاص طور پر براہموس سپر سانک میزائل کا ذکر کیا گیا، جسے بھارت اور ویتنام کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ ویتنام نے سرکاری طور پر اس میزائل کی خریداری کی تصدیق نہیں کی، لیکن اطلاعات کے مطابق ہنوئی اس میں دلچسپی رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری ٹو لام کے حالیہ دورۂ بھارت کے دوران دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو Enhanced Comprehensive Strategic Partnership تک بڑھانے کا اعلان کیا اور دفاعی صنعت و بحری تعاون پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے نزدیک یہ تمام اقدامات مل کر ایک بڑے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے تحت بھارت جنوبی ایشیا تک محدود طاقت کے بجائے جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی بحیرۂ چین میں بھی ایک اہم سکیورٹی کردار ادا کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

تجزیے میں کہا گیا کہ چین تاریخی طور پر جنوب مشرقی ایشیا کو اپنے اثر و رسوخ کا قدرتی دائرہ سمجھتا رہا ہے، لیکن اب امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کی بڑھتی موجودگی نے بیجنگ کے لیے علاقائی صورتحال کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ویتنام اس وقت جنوب مشرقی ایشیا میں بھارت کا اہم ترین شراکت دار بن چکا ہے کیونکہ اس کی جغرافیائی حیثیت جنوبی بحیرۂ چین کے مغربی ساحل پر انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جنوبی بحیرۂ چین، چین کے لیے صرف علاقائی تنازع نہیں بلکہ اس کی ’’بنیادی قومی مفادات‘‘ سے جڑا مسئلہ ہے۔ یہ خطہ چین کی تجارت، توانائی کی رسد اور بحری طاقت بننے کی خواہش کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارتی کمپنی او این جی سی ودیش کی ویتنامی سمندری حدود میں تیل و گیس کی سرگرمیوں پر چین کئی بار اعتراض کر چکا ہے، لیکن بھارت نے سفارتی دباؤ کے باوجود اپنی موجودگی برقرار رکھی، جس سے یہ اشارہ ملا کہ نئی دہلی اب جنوبی بحیرۂ چین کو بھی اپنے اسٹریٹیجک مفادات کا حصہ سمجھنے لگا ہے۔

تجزیاتی رپورٹ کے مطابق چین کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ بھارت اور ویتنام باضابطہ فوجی اتحاد کے بغیر بھی ایک ایسے ’’نرم توازن‘‘ کی حکمتِ عملی اپنا رہے ہیں جس کے ذریعے خطے میں چین کے مکمل غلبے کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ویتنام کی آزاد اور متوازن خارجہ پالیسی بھی چین کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے، کیونکہ ہنوئی بیک وقت کئی بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتا ہے۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بھارت اور ویتنام کے تعلقات کی اپنی حدود بھی ہیں۔ ویتنام اب بھی اپنی ’’فور نوز‘‘ پالیسی پر قائم ہے، جس کے تحت وہ کسی فوجی اتحاد میں شامل نہیں ہوتا، جبکہ بھارت بھی اپنی اسٹریٹیجک خودمختاری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین کی اصل تشویش موجودہ صورتحال نہیں بلکہ مستقبل کا رجحان ہے، جہاں ایشیا کی درمیانی طاقتیں باہمی تعاون کے ذریعے خطے میں اپنے اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے نئے نیٹ ورک تشکیل دے رہی ہیں، جس سے بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں