تحریر و تحقیق: ڈاکٹر ماہ نور فاطمہ
ازبکستان میں ہر سال 9 مئی کو “یومِ یاد و احترام” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن دوسری جنگِ عظیم میں جان قربان کرنے والے فوجیوں، شہداء، بزرگوں اور وطن کیلئے خدمات انجام دینے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے مخصوص ہے۔
ازبکستان میں اس دن کی خاص اہمیت اس لیے بھی ہے کیونکہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران لاکھوں ازبک شہری سوویت فوج کا حصہ بنے تھے، جن میں بڑی تعداد جنگ میں ہلاک یا زخمی ہوئی۔ آج بھی ازبک عوام اپنے بزرگوں اور جنگی ہیروز کی قربانیوں کو عزت و احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
9 مئی کے موقع پر ملک بھر میں سرکاری تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ دارالحکومت تاشقند کے مشہور “میموری اسکوائر” پر صدر، سرکاری حکام، فوجی افسران اور عوام پھول چڑھاتے ہیں جبکہ جنگی یادگاروں پر خصوصی دعائیں بھی کی جاتی ہیں۔
اس دن سابق فوجیوں اور بزرگ شہریوں کو خصوصی اعزازات اور مالی امداد بھی دی جاتی ہے۔ اسکولوں، جامعات اور مختلف سرکاری اداروں میں تقریبات، ثقافتی پروگرام اور جنگی تاریخ سے متعلق نمائشوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
ازبکستان میں 9 مئی کو پہلے سوویت روایت کے مطابق “وکٹری ڈے” کہا جاتا تھا، تاہم 1999 میں سابق صدر اسلام کریموف نے اس دن کو “یومِ یاد و احترام” کا نام دیا تاکہ اسے صرف جنگی فتح کے بجائے انسانی قربانیوں اور قومی خدمت کے جذبے سے جوڑا جا سکے۔
اس سال بھی ازبکستان بھر میں یومِ یاد و احترام کے سلسلے میں خصوصی تقریبات، آتش بازی، فوجی بینڈ پرفارمنس اور شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔