علما معاشرے کا حسن ہوتے ہیں ۔ سفید ریش نورانی چہرے ، دیکھ کر وجود پر سکینت اترتی ہے۔ بچپن اورا س کی یادیں، ہمیشہ انسان کے ساتھ جڑی رہتی ہیں ، میں نے بچپن اور لڑکپن میں سب سے باوقار لوگ یہی دیکھے۔ سفید ریش ، سنجیدہ ، متین ، شفیق ، پیار کرنے والے ۔ مولانا غلام نقشبند ، مولانا عبد الغفور وجھوکوی ، صفدر علی چودھری ، حضرت مولانا قاری شہاب الدین سرگودھوی ۔۔۔ خود میرے نانا چودھری ظہیر الدین سفید ریش تھے ، سرد دنوں میں حویلی میں دھوپ میں چارپائی ڈال کر وہ قرآن کی تلاوت میں ہی زیادہ وقت گزارتے تو حویلی میں جیسے خدا کی رحمت اترنے لگتی ۔ والد محترم جب سے سفید ریش ہوئے ، مزاج بدلتا گیا ، ان کا وہ غصہ بھی جاتا رہا جو میرے جیسوں پر ، میری ہی حرکتوں کی وجہ سے ، نازل ہوا کرتا تھا۔
انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا سیلاب بھی آیا ، لیکن سب اہل علم اس کا حصہ نہیں تھے ۔ نمودونمائش بھی آئی اور تصنع بھرے خطبےا ور کارپوریٹ دعاؤں والے کارپوریٹ خطیب بھی آئے ، لیکن یہ محدود تھے۔ علما پر عمومی طور پر خیر ہی غالب رہا ۔ ان کی اکثریت گاؤں ، دیہاتوں کی خاموش مساجد کے صحنوں میں قرآن و حدیث پڑھتی پڑھاتی رہی ۔ کبھی کسی گاؤں ، دیہات سے گزرتے سادہ سے کپڑوں میں ملبوس ، کسی سفید ریش بزرگ پر نظر پڑ جائے تو بے اختیار پیار آتا ہے۔ یہ ہماری تہذیب و ثقافت کے وہ رنگ ہیں جن کے دیکھنے سے روح کو تازگی ملتی ہے۔
جب کوئی سفید ریش بزرگ لہو میں نہا دیا جائے تو دل لہو ہو جاتا ہے۔ ناحق قتل تو کسی انسان کا بھی ہو ، ظلم ہے۔ اتنا کہ گویا کسی نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا ۔ لیکن قتل جب کسی سفید ریش بزرگ کا ہوتا ہے تو ایسے لگتا ہے جیسے پوری تہذیب سسکیاں لے رہی ہے ۔
مولانا ادریس شہید ہوئے ، میڈیا بالعموم لاتعلق سا رہا ۔ بھارت کے دوسرے اور تیسرے درجے کی گلوکاراؤں اور اداکاراؤں کی موت پر جو ٹی وی چینل پچاس پچاس بار سوگواری کے پیکج چلاتے رہے انہیں مولانا ادریس کے لیے ایک پیکج چلانے کی توفیق نہ ہوئی۔ ٹوئٹر پر کوئی ٹرینڈ نہ بنا ، سوگواری کی کوئی کیفیت معاشرے کو گرفت میں نہ لے سکی۔ صرف اہل علم کا ایک طبقہ سوگوار تھا ، باقی کا سماج لاتعلق تھا۔
یہ کوئی واحد مثال نہیں ، ہر مکتب فکر کے جید علماء اس دنیا سے رخصت ہوئے ، مولانا سرفراز نعیمی بہت یاد آتے ہیں۔ لاہور ایک نجی ٹی وی کے سٹوڈیو میں انہیں ٹاک شو کے لیے دعوت دی ، وہ تشریف لائے ، تب تک ان سے میری ملاقات یا تعارف نہیں تھا۔ پروگرام میں کچھ تاخیر ہو گئی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ اس تاخیر سے پریشان ہوئے بغیر ایک کونے میں بیٹھ کر بڑے انہماک سے تلاوت کر رہے ہیں ۔ پوچھا یہ کون ہیں ؟ پروڈیوسر صاحب نے بتایا سرفراز نعیمی صاحب ہیں ۔ گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا صاحب علم بھی ہیں ۔ علم اورحسن سے تو میں کھڑے کھڑے مرعوب ہو جاتا ہوں ۔ وہ تو دونوں کا امتزاج تھے ، وہیں ایک تعلق خاطر قائم ہو گیا۔ پھر بہت دفعہ وہ تشریف لائے ، کچھ سیکولر دوستوں نے دوران گفتگو بد تہذیبی بھی کی لیکن ان کی شائستگی پر فرق نہ آیا ، میں ان کے حسن اخلاق کا بھی قائل ہو گیا۔
کتنی مثالیں ہیں ، سوچتا ہوں تو یادیں خوشبو ہو جاتی ہیں۔ حضرت قاری شہاب الدین ہوا کرتے تھے ، شہر ان کے آگے مودب کھڑا ہوتا تھا کہ کوئی غلط یا غیر ضروری بات نہ ہو جائےا ور وہ مجھ سے کرکٹ میچ کی صورت حال پوچھ رہے ہوتے تھے۔ میں غیر ضروری تفصیل بتاتا تھا اور وہ ایسے سنتے تھے جیسے کرکٹ ہی ان کی دلچسپی کا میدان ہو۔ وہ کیا جانے بھلا کہ کرکٹ کیا ہوتی تھی وہ تو مذہبی گھرانے کے ایک غیر مذہبی سے لڑکے کو دین کی طرف لانے کے لیے میری فضولیات میں بھی دلچسپی لینے لگ گئے تھے ۔
ایک دن پوچھنے لگے: تم صبح کی نماز میں نظر نہیں آئے؟ مجھے فورا یہ جھوٹ سوجھا کہ میں صبح واک پر نہر کی طرف چلا جاتا ہوں اور وہیں نماز پڑھ لیتا ہوں ۔ کہنے لگے : یہ تو اچھی بات ہے ، کچھ دن مجھے بھی ساتھ لے جایا کرو ادھر ہی نماز پڑھ لوں گا۔ میں نے سوچا اگر صبح اٹھوں بھی ، پھر حضرت جی کو ساتھ لے کر نہر پر بھی جاؤں اور وہاں نماز بھی پڑھنی پڑے تو اس سے بہتر نہیں سیدھا مسجد جا کر نماز پڑھ لی جائے ۔
انتہا پسندی ا ور فرقہ واریت سے خدا محفوظ رکھے ، وہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن قرآن و سنت کی تدریس سے وابستہ علما معاشرے کا حسن ہوتے ہیں ۔
ہمارے ہاں ، مگر سماج پر عجیب حادثہ گزر گیا ہے کہ یہاں اب کوئی سفید ریش قتل ہو تو صرف سفید ریش اس کو رو رہے ہوتے ہیں یا ان کے شاگرد۔ باقی کا معاشرہ لاتعلق سا ہو تا جا رہا ہے، کوئی پرسہ تک نہیں دیتا ، کوئی ظاہری سوگواری کا تکلف بھی نہیں کرتا ۔ یہ رویہ بہت تکلیف دہ ہے۔
شیخ الحدیث مولانا ادریس کے سوگواروں میں مولانا فضل الرحمن کو اکیلے کھڑا دیکھا تو دل کٹ گیا۔ یہ مولانا قومی سیاست کے ہر دکھ سکھ میں اہل سیاست کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے لیکن اپنے دکھوں میں یہ مولانا اکیلا ہوتا ہے ۔ کوئی اس کا غم بانٹنے نہیں آتا ۔ کوئی پرسہ نہیں دیتا۔ ایمل ولی کا ایک ٹویٹ دیکھا ہے ، دل کو ڈھارس سی بندھی ہے کہ ولی باغ کی روایات ابھی زندہ ہیں ۔ یہی ہمارے معاشرے کا اصل رنگ ہوا کرتا تھا ۔
لیکن باقی سماج کو کیا ہو گیا ہے۔ تہذیبی قدریں کیا ہو گئیں ؟
کیا کسی کو معلوم بھی ہے کہ کتنا بڑا آدمی اس جہان سے اٹھ گیا ؟ یہ کوئی عام سا مولوی نہیں تھا ، یہ شیخ الحدیث تھے ، تدریس حدیث میں وہ اپنی مثال آپ تھے ، اب ان جیسا کوئی باقی نہیں ہے ۔ کوئی ہے تو بتائیے ۔ کیسی شاندار اور وسیع شخصیت تھی ، پشاور یونیورسٹی سے عربی اوراسلامیات میں ماسٹرز بھی کر رکھا تھا ، ہزاروں علما کو حدیث کا درس بھی دیا ، سیاست بھی کی ، ایم پی اے بھی رہے ، ڈپٹی سپیکر بھی رہے ۔ استاذ الاساتذہ ۔ زمین کا نمک ۔
معاشرے کو مگر خبر ہی نہیں ، کیسا حادثہ ہو گیا۔ سمجھ نہیں آ رہی جانے والے کو روئیں یا معاشرے کو روئیں؟