فنانشل ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دنیا بھر کی تجارت، سپلائی چینز اور معاشی سرگرمیوں کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے، جبکہ اس کے بدترین اثرات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مسئلہ صرف تیل کی بلند قیمتیں نہیں بلکہ قیمتوں میں غیر یقینی اور بار بار ہونے والی تیز تبدیلیاں ہیں، جو عالمی کاروباری ماحول کو غیر مستحکم کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی صورتحال عالمی تجارت کی رفتار کو سست کر دیتی ہے اور اس کے اثرات تقریبا 19 ماہ تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
عالمی تجارت کی نگرانی کرنے والے ادارے گلوبل ٹریڈ الرٹ کی تحقیق کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی سے شپنگ اخراجات، تجارتی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کے فیصلے متاثر ہوتے ہیں۔ کمپنیاں نئی سرمایہ کاری، سامان کی ترسیل، ذخیرہ اندوزی اور سپلائی چین کے فیصلوں میں احتیاط برتنے لگتی ہیں، جس سے تجارت کی مجموعی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے خدشات، ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ، اور اوپیک پلس کی پالیسیوں نے عالمی تیل منڈی کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے تیل کی قیمتیں کبھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر گئیں، پھر اچانک نیچے آئیں اور دوبارہ بڑھنے لگیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اتار چڑھاؤ نے مال بردار تجارت کے بہاؤ کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ شپنگ کمپنیاں اور تجارتی ادارے مستقبل کے اخراجات کا درست اندازہ لگانے میں مشکلات کا شکار ہیں، جس کے باعث عالمی سپلائی چین مزید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اگر عالمی توانائی منڈی میں استحکام پیدا نہ کیا گیا تو نہ صرف تجارت بلکہ عالمی اقتصادی نمو اور مہنگائی کی صورتحال بھی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے حکومتوں اور توانائی کی منڈیوں پر زور دیا ہے کہ وہ قیمتوں کے اس غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔