"صرف منصفانہ معاہدہ قبول کریں گے”، ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ چین کے بعد مشرق وسطی میں کیا صورتحال ہے؟

ایران نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں کسی امن معاہدے کو قبول کرے گا جب وہ “منصفانہ” ہوگا۔

یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے شروع کیا گیا مشن عارضی طور پر روک دیا ہے، جس سے جنگ کے ایک ماہ پرانے جنگ بندی معاہدے پر بھی اثر پڑا ہے۔

صدر ٹرمپ کا اتوار کو اعلان کردہ “پروجیکٹ فریڈم” تاحال اس اہم بحری گزرگاہ میں جہاز رانی کو معمول پر لانے میں ناکام رہا، جبکہ اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور قریبی ممالک میں اہداف پر نئے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

بدھ کو پیش آنے والے ایک حالیہ واقعے میں ایک فرانسیسی شپنگ کمپنی نے بتایا کہ اس کا ایک کنٹینر بردار جہاز ایک روز قبل آبنائے ہرمز میں نشانہ بنا، جس کے بعد زخمی عملے کو نکال لیا گیا۔

چین کے دورے کے دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران ایک منصفانہ اور جامع معاہدے کا خواہاں ہے، تاہم انہوں نے صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، اسی لیے مشن کو عارضی طور پر روکا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے یہ بحری مشن اُس وقت شروع کیا تھا جب ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجویز کو مسترد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ ایران کی اس تجویز میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جوہری معاملات پر بات چیت جنگ کے خاتمے اور بحری تنازع کے حل کے بعد کی جائے۔

ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر دیگر ممالک کی جہاز رانی کے لیے بند کر رکھا ہے، جبکہ صرف اپنے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

امریکی بحریہ کے ذریعے اس راستے کو کھولنے کی کوششیں تاجر جہازوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہیں، جبکہ ایران نے اس دوران اپنے حملوں میں اضافہ کیا اور دعویٰ کیا کہ اس نے اپنے کنٹرول کے دائرے کو متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں تک وسیع کر دیا ہے۔

اس عرصے کے دوران کئی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک جنوبی کوریائی کارگو جہاز بھی شامل ہے جس کے انجن روم میں دھماکے کی اطلاع ملی تھی۔ ایران نے متحدہ عرب امارات میں بھی متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں ایک اہم آئل پورٹ بھی شامل ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے مشن معطل کیے جانے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 1.7 فیصد کم ہو کر 108 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، جو اس پیش رفت پر عالمی ردعمل کو ظاہر کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں