معروف کمپنی اوپن اے آئی مستقبل میں اے آئی سمارٹ فون لانچ کرنے پر غور کر رہی ہے، بلومبرگ کی رپورٹ

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی اب صرف چیٹ بوٹس اور اے آئی سافٹ ویئر تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ ہارڈویئر کی دنیا میں بھی بڑا قدم رکھنے پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنی مستقبل میں اپنا اے آئی اسمارٹ فون متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کے ذریعے وہ ایپل، سام سنگ اور ہواوے جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو براہِ راست چیلنج دے سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اوپن اے آئی ایک ایسے فون پر غور کر رہی ہے جس میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔ یہ روایتی اسمارٹ فونز سے مختلف ہو سکتا ہے اور صارفین کو اے آئی کے ساتھ زیادہ قدرتی اور براہِ راست رابطے کا تجربہ فراہم کرے گا۔ ماہرین کے مطابق، مستقبل کے یہ اے آئی فونز صرف ایپس چلانے والے آلات نہیں ہوں گے بلکہ صارف کی عادات، گفتگو اور روزمرہ ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھنے والے ذاتی معاون کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق، اوپن اے آئی اس منصوبے میں معروف امریکی چپ ساز کمپنی کوالکوم کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد کوالکوم کے شیئرز میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اس ممکنہ شراکت داری کو اہم سمجھ رہے ہیں۔

رپورٹ میں ایک اور اہم پہلو سابق ایپل ڈیزائن چیف جونی آئیو کا کردار بتایا گیا ہے۔ جونی آئیو وہ معروف ڈیزائنر ہیں جنہوں نے آئی فون، آئی میک اور ایپل کی کئی مشہور مصنوعات کے ڈیزائن میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ گزشتہ سال اوپن اے آئی نے تقریباً ساڑھے چھ ارب ڈالر میں ان کی ایک چھوٹی ڈیزائن کنسلٹنسی کمپنی خریدی تھی۔ اب اطلاعات ہیں کہ جونی آئیو اور اوپن اے آئی مل کر مستقبل کی اے آئی ڈیوائسز پر کام کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اے آئی فونز ٹیکنالوجی کی دنیا کا اگلا بڑا مرحلہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ موجودہ اسمارٹ فونز میں مصنوعی ذہانت محدود حد تک استعمال ہوتی ہے، لیکن نئی نسل کی ڈیوائسز میں اے آئی پورے نظام کا بنیادی حصہ ہو گی۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں ایسی ڈیوائسز بھی سامنے آ سکتی ہیں جن میں روایتی اسکرین کی ضرورت کم ہو جائے یا ان کا ڈیزائن مکمل طور پر مختلف ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں