امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ جرمنی میں تعینات تقریباً 5 ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلا کر امریکہ اور دیگر بیرونِ ملک مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس فیصلے پر آئندہ 6 سے 12 ماہ کے دوران عمل درآمد کیا جائے گا، اور اس کے بعد یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعداد 2022 کی سطح پر آ جائے گی، یعنی اس وقت سے پہلے جب روس نے یوکرین پر حملہ شروع کیا تھا۔
پینٹاگون نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں یورپ میں میزائلوں سے لیس آرٹلری یونٹ تعینات کرنے کا منصوبہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل کے مطابق یہ فیصلہ یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے، اور اس میں زمینی حالات اور دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
تاہم امریکی حکام نے غیر رسمی طور پر بتایا ہے کہ یہ اقدام جزوی طور پر جرمنی کے خلاف ایک پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ جرمنی کے حالیہ بیانات سے ناخوش ہے، خاص طور پر ایران کے ساتھ کشیدگی کے معاملے پر۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران نے امریکہ کو “ذلیل” کیا ہے اور یہ بھی سوال اٹھایا تھا کہ امریکہ اس تنازع کو کیسے ختم کرے گا۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جرمنی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جرمن قیادت کو روس-یوکرین جنگ کے خاتمے اور اپنے داخلی مسائل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
پینٹاگون کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں جرمنی کا کردار محدود رہا، جس پر امریکہ کو مایوسی ہوئی۔
اس کے باوجود، اگر 5 ہزار فوجی واپس بھی بلا لیے جائیں، تو بھی جرمنی میں 30 ہزار سے زائد امریکی فوجی موجود رہیں گے، جو جاپان کے بعد دنیا میں کسی بھی ملک میں امریکی فوج کی دوسری بڑی تعداد ہو گی۔
امریکی حکام کے مطابق جرمنی میں موجود فوجی اڈے مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں امریکی کارروائیوں کے لیے نہایت اہم ہیں، جبکہ زخمی فوجیوں کے علاج کے لیے بھی جرمنی کی طبی سہولیات کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔