امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کے مطابق مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں تیزی آنے کے بعد مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی نے اپنی شراکت داری میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔
دونوں کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ اب مائیکروسافٹ اوپن اے آئی کی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا مالی شراکت دار تو رہے گا، لیکن اسے اب اس ٹیکنالوجی کے استعمال اور لائسنس دینے کے خصوصی حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔
اوپن اے آئی، جو چیٹ جی پی ٹی جیسے جدید مصنوعی ذہانت کے نظام کی خالق کمپنی ہے، ماضی میں مائیکروسافٹ پر کافی حد تک انحصار کرتی رہی ہے۔ مائیکروسافٹ نے اس ادارے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور اس کی کل مالیت ایک سو پینتیس ارب ڈالر سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
مائیکروسافٹ کو یہ خصوصی حق حاصل تھا کہ وہ اوپن اے آئی کی ٹیکنالوجی کو اپنی کلاؤڈ سروس کے ذریعے دوسرے صارفین اور اداروں کو فراہم کرے، جو اس کے کاروبار کے لیے ایک بڑی طاقت تھی۔
تاہم وقت کے ساتھ اوپن اے آئی ایک چھوٹی غیر منافع بخش تحقیقی لیبارٹری سے ایک بڑی تجارتی کمپنی میں تبدیل ہو گئی، جو رواں سال ہی عوامی حصص کی فروخت کی تیاری کر رہی ہے۔ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے کاروبار کے لیے اسے زیادہ کمپیوٹنگ طاقت اور مزید شراکت داروں کی ضرورت پڑی، جبکہ مائیکروسافٹ اتنی تیزی سے تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار یا قابل نہیں تھا۔ اسی وجہ سے اوپن اے آئی نے دیگر کلاؤڈ کمپنیوں کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانے شروع کیے۔
رپورٹ کے مطابق نئے معاہدے کے تحت مائیکروسافٹ کو سن 2032 تک اوپن اے آئی کی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل رہے گی، لیکن اب یہ رسائی صرف اسی کے لیے مخصوص نہیں ہوگی۔ اوپن اے آئی اب دوسری بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ بھی زیادہ آزادی سے معاہدے کر سکے گی اور اپنے کاروبار کے لیے مزید ذرائع تلاش کرے گی۔
اس تبدیلی کے نتیجے میں اوپن اے آئی کو کچھ مالی تحفظ ضرور کم ہوگا، کیونکہ پہلے مائیکروسافٹ جب اس کی ٹیکنالوجی استعمال کرتا تھا تو آمدنی کا ایک حصہ اوپن اے آئی کو ملتا تھا۔ اب نئے نظام میں مالی تقسیم مختلف انداز سے ہوگی۔
دوسری طرف مائیکروسافٹ کے لیے یہ معاہدہ زیادہ یقین دہانی فراہم کرتا ہے کیونکہ اسے سن 2030 تک آمدنی کا حصہ ملتا رہے گا، چاہے مصنوعی ذہانت کتنی ہی تیزی سے ترقی کیوں نہ کرے۔
ادھر اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کو ایلون مسک کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔ ایلون مسک، جو اوپن اے آئی کے ابتدائی سرمایہ کاروں میں شامل تھے، نے الزام لگایا ہے کہ کمپنی نے اپنی بنیادی غیر منافع بخش سوچ کو چھوڑ کر تجارتی مفادات کو ترجیح دی۔ انہوں نے دونوں کمپنیوں سے ایک سو پچاس ارب ڈالر سے زیادہ ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔