جنوبی وزیرستان کے لوئر علاقے میں جلدی بیماری لییشمینیا کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں رواں سال اب تک 255 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔
پاکستانی اخبار ٹریبیون کی ایک خبر کے مطابق سب سے زیادہ کیسز تحصیل برمل کے علاقوں اعظم ورسک اور شاہین پانگا میں سامنے آئے ہیں، جس پر مقامی آبادی میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں مقامی افراد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ بیماری دیہی علاقوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور متاثرہ افراد میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ والدین کو خدشہ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
اخبارنے قبائلی عمائدین کے حوالے سے یہ بھی بتایا ہے کہ محدود طبی سہولیات اور دور دراز علاقوں میں اسپتالوں تک رسائی میں مشکلات کے باعث مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن نہیں ہو پا رہا، جس سے مسئلہ بڑھ رہا ہے۔
ضلعی محکمہ صحت نے کہا ہے کہ ہم اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ علاقوں میں علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق لییشمینیا کے علاج کے لیے ادویات، بشمول گلوکانٹائم، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا میں دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیماری سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔
دوسری جانب مقامی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں موبائل میڈیکل ٹیمیں تعینات کی جائیں، سینڈ فلائی کے خاتمے کے لیے اسپرے مہم شروع کی جائے اور طبی سہولیات کو بہتر بنایا جائے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔