لاک ڈاؤن اور احتجاج کے باعث حکومتی محصولات میں 160 ارب روپے کی کمی کا امکان

ملک میں گزشتہ دنوں ہونے والے احتجاج اور لاک ڈاؤن کے باعث 5 دن تک معاشی سرگرمیاں بند رہیں، جس سے ایف بی آر کو مقررہ محصولات کے ہدف میں 160 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نومبر تک محصولات کا ہدف 1003 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، مگر اب تک صرف 700 ارب روپے اکٹھے کیے جا سکے ہیں۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ابتدائی پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران مجموعی شارٹ فال 349 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کا چیلنج
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق بڑھتے ہوئے شارٹ فال اور سیاسی عدم استحکام کے باعث حکومت کے لیے آئی ایم ایف کو ٹیکس وصولی کے ہدف پر مطمئن کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ایف بی آر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود محصولات 840 سے 850 ارب روپے تک ہی پہنچ سکتے ہیں، جس سے شارٹ فال مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق سیاسی عدم استحکام اور مسلسل معاشی سرگرمیوں کی معطلی قومی خزانے پر منفی اثر ڈال رہی ہے، اور حکومتی ادارے اس نقصان کو کم کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

ریونیو خسارے میں اضافہ
سرکاری عہدیداروں کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاجی کال اور لاک ڈاؤن کے باعث معاشی سرگرمیوں کے رکنے سے ریونیو میں مزید کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے حکومتی مالی پالیسی مزید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں