بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کے نتیجے میں مزید 7 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 240 تک پہنچ گئی ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق مارچ سے اب تک اس بیماری کے کیسز کی تعداد 29 ہزار 500 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 1400 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق ملک میں خسرہ کی تشخیص کے لیے ٹیسٹنگ کٹس کی شدید کمی بھی پیدا ہو گئی ہے، جس سے صورتحال مزید مشکل ہو رہی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بنگلہ دیش کے 64 میں سے 58 اضلاع میں خسرہ کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، یعنی تقریباً 91 فیصد علاقے متاثر ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بیماری ملک بھر میں بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر مریض بچے ہیں، اور تقریباً 79 فیصد کیسز پانچ سال سے کم عمر بچوں میں سامنے آئے ہیں۔
دارالحکومت ڈھاکہ میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، خاص طور پر گنجان آباد اور غیر رسمی بستیوں میں بیماری زیادہ پھیل رہی ہے۔
حکومت نے حالیہ دنوں میں 6 ماہ سے 59 ماہ کی عمر کے بچوں کے لیے خصوصی ویکسینیشن مہم شروع کی ہے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس سے پہلے بنگلہ دیش نے خسرہ کے خاتمے میں نمایاں پیش رفت کی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں ویکسین کی کمی، حفاظتی ٹیکوں کے تسلسل میں خلل اور قومی سطح کی خصوصی مہمات نہ ہونے کے باعث صورتحال دوبارہ خراب ہوئی ہے۔
عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ پورا جنوبی ایشیائی خطہ خسرہ کے پھیلاؤ کے خطرے سے دوچار ہے، کیونکہ سرحدی آمدورفت اور کم ویکسین شدہ آبادی بیماری کے پھیلاؤ کو آسان بنا سکتی ہے۔
خسرہ ایک انتہائی متعدی وائرس ہے جو خاص طور پر بچوں کو متاثر کرتا ہے اور شدید پیچیدگیوں جیسے نمونیا، دماغی سوزش اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بھی بن سکتا ہے، خصوصاً ان بچوں میں جو کمزور یا غیر ویکسینیٹڈ ہوں۔