ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 31 جہازوں کو راستہ بدلنے یا واپس بندرگاہوں کی جانب جانے کا حکم دیا گیا، امریکہ

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز اور ملحقہ سمندری راستوں میں بحری سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں امریکہ نے اپنی ناکہ بندی سے متعلق مزید تفصیلات جاری کی ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 31 جہازوں کو راستہ بدلنے یا واپس بندرگاہوں کی جانب جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں تقریباً 10 ہزار فوجی اہلکار، 100 سے زائد طیارے اور 17 جنگی بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔

اتوار کے روز امریکہ نے ایک ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز کو روکنے کا اعلان کیا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے رکنے کی وارننگ پر عمل نہیں کیا۔ ایران نے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’مسلح قزاقی‘ قرار دیا۔

اسی دوران منگل کو پینٹاگون نے کہا کہ امریکی افواج نے ایک ایسے آئل ٹینکر پر بھی کارروائی کی جو ان کے بقول پابندیوں کی زد میں تھا اور ایران کو مدد فراہم کر رہا تھا۔ یہ کارروائی انڈو پیسیفک کے علاقے میں کی گئی۔

بدھ کو وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ صدر اس ناکہ بندی سے مطمئن ہیں اور ان کے مطابق یہ ایران کی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام نے ان خبروں کی تردید بھی کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران سے منسلک کچھ جہاز ناکہ بندی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں