فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں اسرائیل کے حوالے سے رائے عامہ میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے اور اب پہلے جیسی مضبوط حمایت کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، خاص طور پر اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں اور حالیہ اقدامات پر امریکہ میں نہ صرف عوام بلکہ سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی معاشرے کے مختلف طبقات، جن میں نوجوان، طلبہ اور دانشور شامل ہیں، اب اسرائیل کے حوالے سے زیادہ تنقیدی رویہ اختیار کر رہے ہیں اور انسانی حقوق کے معاملات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ امریکی سیاست میں بھی اس تبدیلی کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں، جہاں کچھ رہنما اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کے بجائے زیادہ متوازن اور محتاط مؤقف اپنانے کی بات کر رہے ہیں۔ اس رجحان کی ایک بڑی وجہ غزہ، ایران اور دیگر خطوں میں جاری کشیدگی، جنگی صورتحال اور انسانی حقوق سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات ہیں، جنہوں نے عالمی سطح پر بھی بحث کو جنم دیا ہے۔
دیگر عالمی تجزیوں اور جائزوں میں بھی اسی نوعیت کے رجحانات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق امریکی نوجوان نسل اور ترقی پسند حلقوں میں اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کچھ حلقے فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے زیادہ آواز اٹھا رہے ہیں۔ اسی طرح امریکی جامعات میں ہونے والے مظاہرے اور سماجی ذرائع ابلاغ پر جاری مباحث بھی اس بدلتی ہوئی رائے عامہ کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران کئی سروے رپورٹس میں بھی بتایا گیا کہ امریکی عوام اور سیاستدان اب اس جنگ کا حمایت نہیں کر ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور ان کی جنگی مدد پر اعتراض کر رہے ہیں۔ کئی سروے رپورٹس میں یہ بھی نتیجہ برآمد ہوا کہ ریپبلکنز پارٹی کے حمایت یافتہ نوجوان ووٹرز بھی اب اسرائیل کی جنگی حمایت کے خلاف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اگر یہ رجحان اسی طرح برقرار رہا تو مستقبل میں امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کی نوعیت میں بتدریج تبدیلی آ سکتی ہے، جو کئی دہائیوں سے قریبی اتحادی رہے ہیں، تاہم پالیسی سطح پر توازن اور احتیاط کا عنصر زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔