پاکستان میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی امید، جنگ بندی کے خاتمے سے قبل غیر یقینی برقرار

امریکہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات پاکستان میں ہونے کا امکان ہے، تاہم جنگ بندی کے خاتمے سے قبل صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔

دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی چند روز میں ختم ہونے والی ہے۔ اس کے باوجود ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی رفتار پیدا ہو رہی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بات چیت درست سمت میں جا رہی ہے اور امکان ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کی صورت میں ذاتی طور پر یا ورچوئل طور پر شریک ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کے لیے پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے بھی ممکنہ شرکت پر غور کیا جا رہا ہے، اگرچہ حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔

ادھر ابتدائی ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ مذاکرات بحال ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

ایران نے امریکہ پر اپنے بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایک ایرانی تجارتی جہاز “توسکا” کو تحویل میں لینے پر سخت تنقید کی ہے، جسے تہران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔ ایران کے سفیر برائے پاکستان رضا امیری مقدم نے بھی کہا ہے کہ کوئی بھی باوقار قوم دباؤ میں مذاکرات نہیں کرتی۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران بالآخر مذاکرات کرے گا، تاہم امریکہ اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

پاکستان، جو اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، نے مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں