اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر، جس میں ایک فوجی کو عیسائی مذہبی علامت کو نقصان پہنچاتے ہوئے دکھایا گیاہے، جنوبی لبنان میں تعینات ایک اسرائیلی فوجی کی ہے۔ فوج کے مطابق، اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور متعلقہ اہلکار کا عمل فوجی اقدار کے مکمل طور پر خلاف ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات شمالی کمانڈ کے تحت جاری ہیں اور معاملہ کمانڈ چین کے ذریعے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ تحقیقات کی روشنی میں ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔ فوج نے مزید کہا کہ وہ مقامی کمیونٹی کی مدد سے متاثرہ مجسمے کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ آئی ڈی ایف نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کی کارروائیاں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے قائم کردہ ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے ہیں اور اس کا مقصد شہری یا مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانا نہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک یہودی ریاست ہونے کے باوجود تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ رواداری اور باہمی احترام کی اقدار کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعے پر ‘حیران اور دکھی’ ہیں اور اس فعل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فوجی حکام اس معاملے کی فوجداری تحقیقات کر رہے ہیں اور ذمہ دار شخص کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل میں عیسائی برادری دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مقابلے میں بہتر حالات میں زندگی گزار رہی ہے اور یہاں مذہبی آزادی موجود ہے، جبکہ اس واقعے پر لبنان اور دنیا بھر کے مسیحیوں سے افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔