‘دنیا میں کسی بھی ماں یا باپ کو اپنے بچے کی قبر پر لوری نہ سنانی پڑے’، ایران میں جاں بحق ہونے والے سکول کے بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط

ایران کے شہر میناب میں امریکی فضائی حملے میں جاں بحق ہونے والے سکول کے بچوں کے والدین نے کیتھولک رہنما پوپ لیو کو ایک خط لکھ کر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

28 فروری کو جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں واقع شجرہ طیبہ ایلیمنٹری اسکول پر امریکی حملے میں 168 بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ متاثرہ والدین نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ یہ الفاظ ‘کانپتے ہاتھوں’ سے تحریر کر رہے ہیں اور اب وہ اپنے بچوں کو گلے لگانے کے بجائے ان کے جلے ہوئے بستے اور خون آلود کاپیاں سینے سے لگانے پر مجبور ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، جاں بحق افراد میں کم از کم 110 بچے شامل تھے جن کی عمریں 7 سے 12 سال کے درمیان تھیں، جبکہ 26 اساتذہ اور 4 والدین بھی مارے گئے جو پہلے دھماکے کے بعد بچوں کی مدد کے لیے اسکول پہنچے تھے اور دوسرے حملے میں نشانہ بنے۔

والدین نے اپنے خط میں پوپ لیو کے ان بیانات کا حوالہ دے شکریہ ادا کیا جن میں انہوں نے عالمی طاقتوں سے ‘تشدد اور بمباری کم کرنے’ کی اپیل کی تھی، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے احترام پر زور دیا تھا، اور یہ کہا تھا کہ حقیقی امن ‘ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ مکالمے کے راستے سے حاصل ہوتا ہے’۔

پوپ لیو نے جنگ کے آغاز کے فورا بعد ہی اپنے بیانات میں فریقین سے تشدد روکنے اور بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ طاقت اور ہتھیار صرف تباہی، درد اور موت لاتے ہیں، جبکہ پائیدار امن کے لیے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ مکالمہ ضروری ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ حملہ ممکنہ طور پر پرانے اور غلط جغرافیائی کوآرڈینیٹس کی بنیاد پر کیا گیا، تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تحقیق میں اسے کم از کم ‘سنگین غفلت’ قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ اگر یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا ہو تو یہ جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بناتا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر اس حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا تھا۔ تاہم کئی ہفتے گزرنے کے باوجود نہ تو باضابطہ معذرت کی گئی ہے اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں کو کوئی معاوضہ دیا گیا ہے۔

خط کے اختتام پر والدین نے اپیل کی کہ پوپ لیو اپنی آواز بلند کرتے رہیں تاکہ ‘ہتھیار رکھ دیے جائیں’ اور مکالمے کے تمام راستے دوبارہ کھل سکیں اور دنیا میں کسی بھی ماں یا باپ کو اپنے بچے کی قبر پر لوری نہ سنانی پڑے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں