واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے تحت دنیا بھر کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے عہدیداروں اور معاشی ماہرین کا اجلاس منعقد ہوا جہاں عالمی معیشت کو درپیش خطرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اس دوران آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات اہم موضوع رہا، تاہم ماہرین کے مطابق ایک اور خطرہ زیادہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت کا ایک نیا ماڈل، ’مائیتھوس‘, ہے جس نے عالمی مالیاتی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اس ماڈل کے ممکنہ اثرات صرف بینکاری نظام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عام صارفین کے بینک اکاؤنٹس، موبائل فونز، ٹیبلٹس اور کمپیوٹرز بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو عالمی مالیاتی ڈھانچہ شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام بھی اس خطرے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ سمیت اعلیٰ مالیاتی عہدیداروں نے نیویارک کے مالیاتی مرکز وال سٹریٹ میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس میں اس ابھرتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت جہاں ترقی کے نئے دروازے کھول رہی ہے، وہیں اس کے ممکنہ غلط استعمال نے عالمی سطح پر ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔