ایران-امریکا مذاکرات کا ممکنہ دوسرا دور: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق صورتحال تاحال غیر واضح ہے، جبکہ دونوں جانب سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کا اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کا منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے جنگ بندی کے آغاز ہی سے اس کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے ایران اس عمل پر اعتماد نہیں کر سکتا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ایران سابقہ مذاکرات کے دوران امریکا کے حملوں کو بھی فراموش نہیں کر سکتا، جس کے باعث موجودہ صورتحال میں پیش رفت مشکل ہو گئی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے نمائندے پاکستان میں مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اسلام آباد کے دورے کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال سامنے آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے وینس شرکت نہیں کریں گے تاہم بعد میں وائٹ ہاؤس حکام نے کہا کہ وینس اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق، امکان ہے کہ امریکا کی جانب سے پہلے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد بھیجا جائے، اور اگر بات چیت آگے بڑھی تو جے ڈی وینس بھی مذاکرات میں شامل ہو سکتے ہیں۔

ادھر پاکستان نے اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں، جن میں اہم سڑکوں کی بندش اور ملک بھر سے ہزاروں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی شامل ہے۔

اس وقت مذاکرات کے آغاز، شرکاء اور ٹائم لائن کے بارے میں حتمی فریم ورک واضح نہیں ہو سکا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں