دنیا ایک نازک موڑ پر

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر ایسے خطرناک موڑ پر آ پہنچی تھی جہاں کسی بھی غلط قدم کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ جب ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کر دیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر پاکستان کے فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر ایران پہنچےتاکہ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کی راہ ہموار کی جا سکے۔ شاندار سفارت کاری اور امن کی خواہش نے پاکستان کو پوری دنیا میں وہ مقام دلوایا جس کا یقینی طور پر پاکستان حق دار ہے۔پوری پاکستانی قوم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اس کاوش میں بھر پور ساتھ دیا جس کی وجہ سے پاکستانی اور ایرانی قوم یک جان دو قالب بن گئے۔

ایران اور امریکہ کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ کی جنگ، اور پراکسی تنازعات ان تعلقات کی بنیاد میں شامل ہیں۔ ایران کی قیادت بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ امریکہ پر اعتماد نہیں کرتی، خاص طور پر اس وقت سے جب امریکہ نے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی۔ ایسے میں ایران کا مذاکرات سے انکار کوئی غیر متوقع قدم نہیں بلکہ اس کی دیرینہ پالیسی کا تسلسل ہے۔

اس تناظر میں اگر پاکستان کے آرمی چیف ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ ایک نہایت مشکل اور نازک مشن ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات اگرچہ عمومی طور پر مثبت رہے ہیں، مگر ان میں بھی اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ سرحدی مسائل، علاقائی سیاست، اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی اس توازن کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ پاکستان آسانی سے ایران کو قائل کر لے گا، شاید زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہاں ایک اہم پہلو امریکہ کی نیت اور پالیسی پر بھی اٹھتا ہے۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ایران کسی حد تک مذاکرات پر آمادہ ہو بھی جاتا ہے، تو کیا امریکہ اس بار کسی پائیدار اور قابل اعتماد معاہدے کی طرف بڑھے گا؟ ماضی کے تجربات اس حوالے سے حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ ایران کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو امریکہ پر دوبارہ اعتماد کرنا ایک بڑا خطرہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب سیاسی قیادت کی تبدیلی کے ساتھ پالیسیوں میں بھی اچانک تبدیلی آ سکتی ہے۔

اسی وجہ سے ایران کا مؤقف زیادہ تر خودمختاری اور مزاحمت پر مبنی نظر آتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے وقتی ریلیف تو حاصل ہو سکتا ہے، مگر طویل المدتی طور پر یہ اس کی اسٹریٹیجک پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے لیے بھی ایران کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا ممکن نہیں، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے ایران ایک کلیدی کردار رکھتا ہے۔

پاکستان کا کردار اس سارے معاملے میں ایک دلچسپ مگر پیچیدہ حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طرف پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مسلم دنیا میں اثر رکھتا ہے اور مختلف فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف اس کی اپنی داخلی اور خارجی چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ معاشی مسائل، سیکیورٹی خدشات، اور علاقائی سیاست میں محدود اثر و رسوخ ایسے عوامل ہیں جو اس کے کردار کو محدود کر سکتے ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران میں موجودگی یقیناً ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، مگر اس سے غیر معمولی توقعات وابستہ کرنا شاید مناسب نہیں ہوگا۔ سفارت کاری ایک طویل اور صبر آزما عمل ہوتا ہے جس میں فوری نتائج کی امید کم ہی ہوتی ہے۔ خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں اعتماد کا فقدان ہو اور ماضی کے تجربات تلخ ہوں، وہاں کسی ایک ملاقات یا دورے سے بڑی تبدیلی کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔

یہ بھی غور طلب ہے کہ اگر ایران مذاکرات پر آمادہ ہو بھی جاتا ہے، تو اس کے بعد کا مرحلہ زیادہ پیچیدہ ہوگا۔ مذاکرات کے ایجنڈے، شرائط، اور ضمانتوں پر اتفاق کرنا ایک الگ چیلنج ہوگا۔ ایران ممکنہ طور پر سخت شرائط رکھے گا، جن میں پابندیوں کا مکمل خاتمہ، سیکیورٹی ضمانتیں، اور علاقائی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی شامل ہو سکتی ہے۔ امریکہ کے لیے ان تمام شرائط کو قبول کرنا آسان نہیں ہوگا۔

مزید برآں، عالمی سیاست میں دیگر طاقتوں کا کردار بھی اس معاملے کو متاثر کرے گا۔ چین اور روس جیسے ممالک ایران کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور وہ بھی اس بات کو یقینی بنانا چاہیں گے کہ کوئی بھی معاہدہ ان کے مفادات کے خلاف نہ ہو۔ اسی طرح یورپی ممالک بھی اس تنازعے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، مگر ان کی پوزیشن اکثر امریکہ کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے۔

ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ موجودہ صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے۔ پاکستان کی کوششیں قابل تعریف ہو سکتی ہیں، مگر ان کے نتائج محدود بھی ہو سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ اعتماد کا فقدان ہے، اور جب تک یہ بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوتا، کسی بھی قسم کے مذاکرات دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دنیا ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں تمام فریقین کو جذبات کے بجائے عقل اور تدبر سے کام لینا ہوگا۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ یہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ اگر واقعی امن مطلوب ہے تو اس کے لیے سنجیدہ، مخلصانہ اور مستقل مزاجی کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہے، ورنہ خدشات حقیقت کا روپ بھی دھار سکتے ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں