انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سیس سی) نے کہا ہے کہ کینیڈا کرکٹ میں مبینہ میچ فکسنگ اور بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں، جن میں حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کینیڈا کی شکست بھی شامل ہے۔
یہ میچ بھارتی شہر چنئی میں کھیلا گیا تھا جہاں کینیڈا کو 8 وکٹوں سے شکست ہوئی تھی۔ اس مقابلے پر اس وقت شبہات پیدا ہوئے جب کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی جانب سے نشر کی گئی ایک دستاویزی رپورٹ میں بدعنوانی کے سنگین الزامات سامنے آئے۔
آئی سی سی کے انٹیگریٹی یونٹ کے عبوری جنرل منیجر اینڈریو ایفگریو نے ایک بیان میں کہا کہ اینٹی کرپشن یونٹ اس پروگرام سے آگاہ ہے اور معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دستاویزی رپورٹ میں کینیڈا کرکٹ میں بدانتظامی اور کرپشن سے متعلق کئی سنگین دعوے کیے گئے ہیں۔ چنئی میں کھیلے گئے میچ کے دوران خاص طور پر کپتان دلپریت باجوا کے ایک اوور پر شکوک کا اظہار کیا گیا، جس میں انہوں نے نو بال اور وائیڈ بال کروائی اور مجموعی طور پر 15 رنز دیے۔
اس میچ میں کینیڈا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 173 رنز بنائے، جبکہ نیوزی لینڈ نے ہدف 15.1 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
آئی سی سی اس معاملے میں ایک ٹیلیفون کال کی بھی تحقیقات کر رہی ہے جس میں اُس وقت کے کینیڈا کے کوچ خرم چوہان نے الزام لگایا کہ کرکٹ کینیڈا کے بعض اعلیٰ عہدیداروں نے ان پر مخصوص کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آئی سی سی اپنے رکن ممالک کے انتظامی معاملات کو اپنے آئینی طریقہ کار کے تحت دیکھتی ہے جہاں یہ اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہوں۔
دوسری جانب کرکٹ کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ ادارے کے مطابق حالیہ مواد میں منظم جرائم اور میچ فکسنگ جیسے الزامات کی نشاندہی کی گئی ہے، اور جہاں بھی ایسے معاملات سامنے آئیں گے، ان کا ذمہ داری کے ساتھ جائزہ لے کر مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔