فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اہم عالمی اجلاس منعقد کیا ہے، جس میں درجنوں ممالک شریک ہو رہے ہیں، تاہم امریکہ اس عمل کا حصہ نہیں ہے۔
پیرس میں ہونے والا یہ اجلاس اس وسیع تر سفارتی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد اس تنازع کے معاشی اثرات کو کم کرنا ہے، جس نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایران نے فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز کے بعد اس اہم گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جہاں سے دنیا کے تقریبا پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔
فرانسیسی صدر نے اس اقدام کو “دفاعی نوعیت” کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد صرف جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے اور اس میں صرف غیر متحارب ممالک شامل ہوں گے۔
برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری اور غیر مشروط طور پر کھولنا عالمی ذمہ داری ہے تاکہ توانائی اور تجارت کی روانی بحال ہو سکے۔ انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ عالمی معیشت کو یرغمال بنا رہا ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
فرانس اور برطانیہ نے اس حوالے سے فوجی منصوبہ بندی بھی شروع کر دی ہے، جس کے تحت جہازوں کی حفاظت، بارودی سرنگوں کی صفائی اور سمندری خطرات سے آگاہی کے نظام جیسے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مشن میں براہِ راست جنگی کارروائی کے بجائے حفاظتی اقدامات کو ترجیح دی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ ہفتوں میں چالیس سے زائد ممالک نے ان سفارتی اور فوجی مشاورتوں میں حصہ لیا ہے، جبکہ جمعے کے اجلاس میں تقریبا 30 ممالک کی شرکت متوقع ہے، جن میں یورپ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے ممالک شامل ہیں۔
یہ پیش رفت ایک حد تک امریکہ کے مؤقف کے ردعمل کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ امریکی صدر اتحادی ممالک کو جنگ میں شامل نہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں اور واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا صرف امریکہ کی ذمہ داری نہیں۔