نیپال میں سنگر سے سیاست دان بننے والے بلندر شاہ کی قیادت میں نئی حکومت نے بدعنوانی کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سابق اور موجودہ سیاست دانوں اور سرکاری افسران کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے ایک پینل قائم کر دیا ہے۔
35 سالہ بلندر شاہ اس وقت وزیر اعظم بنے جب ان کی جماعت راشٹریہ سواتنترا پارٹی نے 5 مارچ کے پارلیمانی انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کی۔ یہ انتخابات گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے انسدادِ بدعنوانی “جنریشن زی” احتجاج کے بعد منعقد ہوئے تھے۔
بلندر شاہ اس سے قبل دارالحکومت کھٹمنڈو کے میئر رہ چکے ہیں، جہاں انہوں نے بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور اصلاحات کے باعث خاصی مقبولیت حاصل کی۔
کابینہ کے ترجمان سسمت پوکھریل کے مطابق پانچ رکنی تحقیقاتی پینل کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج راجندر کمار بھنڈاری کریں گے۔
ترجمان نے کہا کہ تحقیقات قانونی تقاضوں اور شواہد کی بنیاد پر غیر جانبدارانہ انداز میں کی جائیں گی، اور اس کی سفارشات پر متعلقہ سرکاری ادارے عملدرآمد کریں گے۔ تاہم پینل کو کام مکمل کرنے کے لیے کوئی حتمی مدت نہیں دی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیقات 2008 میں 239 سالہ بادشاہت کے خاتمے کے بعد سے عوامی عہدوں پر فائز رہنے والے سینکڑوں سیاست دانوں اور افسران تک پھیل سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ تین سال قبل قائم ہونے والی راشٹریہ سواتنترا پارٹی نے انتخابات کے دوران بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا اہم نعرہ بنایا تھا اور طویل عرصے سے سیاست پر حاوی جماعتوں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔