امریکہ کی خاتونِ اول میلینیا ٹرمپ نے بدنام زمانہ مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین سے اپنے کسی بھی تعلق اور ان کے جنسی جرائم سے لاعلمی کا انکار کیا ہے۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی بیان دیتے ہوئے میلینیا ٹرمپ نے کہا کہ ان سے متعلق گردش کرنے والی تمام کہانیاں مکمل طور پر جھوٹی ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ میرے اور جیفری ایپسٹین کے درمیان تعلق جوڑنے والے جھوٹ اب ختم ہونے چاہئیں۔ جو لوگ میرے بارے میں غلط باتیں پھیلا رہے ہیں، ان میں اخلاقیات، عاجزی اور احترام کی کمی ہے۔
میلینیا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے وکلا ان الزامات کے خلاف قانونی طور پر لڑ رہے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ایپسٹین سے متعلق طویل تنازع کے بعد اس معاملے سے آگے بڑھتی دکھائی دے رہی تھی، خاص طور پر جب واشنگٹن میں ایران سے متعلق کشیدگی مرکزی توجہ بنی ہوئی ہے۔
میلینیا ٹرمپ نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ ایپسٹین کے متاثرین کے لیے ایک عوامی سماعت منعقد کی جائے تاکہ وہ اپنی کہانیاں خود بیان کر سکیں۔ ان کے مطابق ہر خاتون کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اگر چاہے تو اپنی کہانی عوام کے سامنے بیان کرے۔ تبھی حقیقت سامنے آئے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ایپسٹین یا ان کی قریبی ساتھی گھسلین میکسویل سے کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا، البتہ وہ نیویارک اور فلوریڈا میں ایک ہی سماجی حلقوں میں شامل رہے ہیں۔
میلینیا ٹرمپ نے ایک ای میل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک رسمی اور غیر اہم پیغام تھا، جسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین سنہ 2019 میں نیویارک میں جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کرتے ہوئے جیل میں ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ گھسلین میکسویل کو سنہ 2021 میں لڑکیوں کو جنسی استحصال کے لیے پھانسنے کے جرم میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
دوسری جانب امریکی سیاست میں اس معاملے پر بحث دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے، اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی کانگریس میں سماعت کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔