آبنا ئے ہرمز کا کنٹرول حا صل کرنے کے لیےبین الا قوامی نیوی فورس بنا نے کی تجویز

عالمی معتبرجریدےفنانشل ٹائمزکی رپورٹ کےمطابق، متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور دیگر مغربی اتحادیوں کو بتایا ہے کہ وہ آ بنا ئے ہرمز کا کنٹرول اور یہاں عالمی شپنگ کا راستہ کھو لنے کے لیے ایک کثیر القومی بحری ٹاسک فورس میں حصہ لینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ابو ظہبی نے اپنی جدید بحریہ کو بھی اس فورس میں تعینات کرنے کا ارادہ ظا ہرکیا ہے ۔

یو اے ای کی کوششیں اس سلسلے میں بہت سنجیدہ اور بنیا دی نو عیت کی ہیں۔ یو اے ای درجنوں ممالک کو ایک ہرمز سیکورٹی فورس (Hormuz Security Force) بنا نے پر را ضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس فورس کا بنیادی مقصد ایرانی حملوں سے آبنائے ہر مز کا دفاع کرنا اور تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے یو اے ای کی اپنی بحریہ کا سائز چھوٹا ہے لیکن یہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو اسے اس آپریشن میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔

یہ پیشکش حالیہ ایران-اسرائیل-امریکہ تنازع کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ ایران نے آ بنا ئے ہرمز کوسختی سےبند کر دیا ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی کا ایک اہم چوک پوائنٹ ہے۔ اس بندش کی وجہ سے عالمی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے، تیل کی قیمتیں متاثر ہو رہی ہیں، اور عالمی معیشت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ یو اے ای کی اپنی معیشت بھی براہ راست متاثر ہو رہی ہے، اس لیے ابو ظہبی سخت موقف اپنا رہا ہے اور ایران کے اس اقدام کو “اقتصادی دہشت گردی” گردانتا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی حمایت کر رہا ہے۔

اس تجویز سے پہلے کا منظر بھی یہ تھا کہ آ بنا ئے ہر مز کی بندش کے خلاف صدر ٹرمپ کے بار بار مطا لبے کے با وجود کئی یورپی اتحادیوں نے فوری طور پر خلیج فارس میں اپنے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا تھا-اس تجویز پر بھی ابھی تک یورپی جنگ مخالف ممالک کا با ضا بطہ ردعمل سامنے نہیں آ یا۔

حال ہی میں یو اے ای اور بحرین سمیت 22 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ یہ تمام مما لک آبنائے ہر مز میں عالمی شپنگ کو محفوظ بنانے کے لیے تیارہیں۔ ان ممالک میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، کینیڈا، جنوبی کوریا، آسٹریلیا وغیرہ بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بحرین کی جانب سے ایک مسودہ پیش کیا گیا ہے جو Chapter VII کے تحت “تمام ضروری اقدامات” (use of force) کی اجازت دے سکتا ہے، لیکن اس کی منظوری کا امکان کم ہے۔

آبنائے ہرمز سے دنیا کا تقریباً 20-30% تیل گزرتا ہے۔ اس کی بندش نہ صرف خلیج کے ممالک بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ یہ تجویز در حقیقت خلیجی ممالک اورامریکہ کے درمیان بڑ ھتے ہو ئے فوجی اور معا شی تعاون کی واضح مثال ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں