روس اور ازبکستان نے منگل کے روز جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک روڈ میپ پر دستخط کیے ہیں اور ازبکستان کے پہلے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی سائٹ پر عملی کام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ پیش رفت روس کی سرکاری جوہری ایجنسی روزایٹم اور ازبکستان کی جوہری توانائی کی ایجنسی اُزاتم کے درمیان دارالحکومت تاشقند اور جزاخ کے علاقے میں منعقدہ تقاریب کے دوران سامنے آئی۔
روسی ادارے کے مطابق اس روڈ میپ میں نیوکلیئر پاور پلانٹ منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تعاون شامل ہے، جن میں افرادی قوت کی تربیت، جدید جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی، اور مستقبل میں پلانٹ کے قریب ایک ’نیوکلیئر سٹی‘ کے قیام کے منصوبے شامل ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک اضافی معاہدے کے تحت پاور پلانٹ کے ڈیزائن میں نئی اور مربوط تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ منصوبے میں جدید جنریشن تھری پلس وی وی ای آر-1000 ری ایکٹرز پر مبنی دو بڑے یونٹس کے ساتھ ساتھ آر آئی ٹی ایم-200 این ری ایکٹرز کے دو یونٹس بھی شامل ہوں گے۔
ازبک ادارے کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد یہ پاور پلانٹ سالانہ تقریباً 15.4 ارب کلوواٹ گھنٹے بجلی پیدا کرے گا، جو ملک کی مجموعی بجلی کی کھپت کا 15 فیصد سے زائد حصہ ہوگا۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں اس منصوبے پر پیش رفت کے علاوہ دیگر مشترکہ منصوبوں اور عالمی امور، بشمول مشرق وسطیٰ اور یوکرین کی صورتحال، پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یاد رہے کہ 2024 میں صدر پیوٹن کے دورۂ ازبکستان کے دوران دونوں ممالک نے کم صلاحیت کے حامل نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کا معاہدہ بھی کیا تھا۔