ازبکستان کا خلائی پروگرام: پہلے خلا باز اور سیٹلائٹس بھیجنے کا منصوبہ

ازبکستان نے اپنے پہلے خلا باز کے انتخاب اور دو سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ملک کے خلائی پروگرام کو فروغ دینا اور سائنسی و تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ منصوبے قومی خلائی ادارے کی جانب سے پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں ایک راؤنڈ ٹیبل اجلاس کے دوران پیش کیے گئے، جہاں طویل مدتی اسٹریٹیجی پر روشنی ڈالی گئی۔

حکام کے مطابق 27 سے 40 سال عمر کے امیدواروں سے درخواستیں طلب کی جائیں گی، بشرطیکہ وہ تعلیم، جسمانی صحت اور ذہنی مضبوطی کے سخت معیار پر پورا اتریں۔ امیدواروں کے لیے انگریزی کے ساتھ روسی یا چینی زبان جاننا بھی ضروری ہوگا۔

انتخاب کے عمل میں میڈیکل معائنہ، سائیکالوجیکل ٹیسٹ اور جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کا جائزہ شامل ہوگا۔ حتمی مرحلے کے لیے تین یا چار امیدواروں کا انتخاب متوقع ہے، جنہیں بیرونِ ملک مزید ٹریننگ دی جائے گی۔

منتخب خلا باز کو 10 سے 12 ماہ کی ٹریننگ کے بعد ایک مشن پر بھیجا جائے گا جو تقریباً 10 سے 14 دن پر مشتمل ہوگا۔ اس دوران طب، حیاتیات، نباتاتی جینیات اور میٹیریلز سائنس جیسے شعبوں میں تحقیق کی جائے گی۔

ازبکستان اس منصوبے کے لیے امریکہ، روس اور چین جیسے ممالک سے تعاون پر غور کر رہا ہے، جو انسانی خلائی پرواز کے فعال پروگرام رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک حکومتی کمیشن بھی قائم کیا گیا ہے جو پارٹنرز کے انتخاب اور فنڈنگ کے معاملات دیکھے گا۔

یہ پیش رفت صدر شوکت مرزایئوف کے اُس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے دسمبر 2025 میں ملک کا پہلا خلا باز خلا میں بھیجنے کا عندیہ دیا تھا۔

ازبکستان آئندہ تین سے چار سال کے دوران دو ہائی ریزولوشن سیٹلائٹس بھی خلا میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ سیٹلائٹس زراعت، ماحولیاتی نگرانی اور اربن پلاننگ جیسے شعبوں میں مدد فراہم کریں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دو سیٹلائٹس ملکی ضروریات کے لیے کافی نہیں ہوں گے، تاہم یہ منصوبہ خلائی انفراسٹرکچر کی بنیاد رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ منصوبے کے ہر مرحلے میں مقامی ماہرین کو شامل کیا جائے گا تاکہ ملک میں ٹیکنالوجیکل مہارت کو فروغ دیا جا سکے اور بیرونی انحصار کم ہو۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں